تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 462
بولنے کے نہیں ہوتے بلکہ اس کے معنے درست بات کہنے کے بھی ہوتے ہیں اور یہی معنی اس آیت میں ہیں۔اوپر جو معنے اس آیت کے کئے گئے ہیں ان کو مدِّنظر رکھتے ہوئے اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کو اپنے بعد آنے والے انبیاء اور اپنی جماعت کے افراد کی قابلیتوں کا بھی ایک حد تک علم دیا جاتا ہے کیونکہ آدم کے بعد آنے والے انبیاء کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ کا یہ سلوک نظر آتا ہے کہ وہ اپنے بعد آنے والے ایک یا ایک سے زیادہ نبیوں کی خبر دیتے رہے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم جو جامع جمیع کمالات تھے ان کی تو ہر ایک نبی نے ہی خبر دی ہے اسی طرح انبیاء کی زندگی پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اتباع میں سے جو خاص وجود ہوتے ہیں ان پر ان کے حالات بھی اجمالی طور پر منکشف کئے جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کبھی کسی نبی نے اپنے انصار چننے میں غلطی نہیں کی یعنی ان کے انصار کی اکثریت کبھی غلطی پر جمع نہیں ہوئی۔کاش شیعہ لوگ اس حقیقت کو دیکھتے اور خلفاء کی مخالفت سے باز آتے۔آیت وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا میں جدید طریقۂ تعلیم کنڈرگارٹن کی طرف اشارہ۔لطیفہ آج کل کے تعلیم کے طریقوں میں سے جدید ترین طریقہ کنڈرگارٹن کہلاتا ہے جو جرمنی کی ایجاد ہے اس کے لفظی معنے تو بچوں کے باغ کے ہیں مگر محاورہ میں اس کے معنے بچوں کا سکول کے لئے جاتے ہیں جیسا کہ نام سے ظاہر ہے۔اس طریق تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ کتابوں سے علم پڑھانے کی بجائے چیزیں دکھا کر ان کے نام سکھائے جائیں۔اس طرح بات اچھی طرح یاد رہتی ہے اور بچہ حافظہ پر بوجھ پڑے بغیر سبق یاد کر لیتا ہے۔اس طریق تعلیم میں یا تو عملاً باغ میں بچہ کو پھرا کر مختلف اشیاء کے نام یاد کرائے جاتے ہیں اور یا تصویروں اور مٹی اور لکڑی کے بنے ہوئے نمونوں کو دکھا کر مختلف اشیاء کا علم دیا جاتا ہے۔یورپ کو اور خاص کر جرمنی کو اس طریق تعلیم پر بڑا نا زہے مگر دیکھو کہ قرآن کریم کی اس مختصر آیت میں اسی کنڈرگارٹن کے طریق کو کس لطیف طور پر پیش کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آدم کو زبان اس طرح نہیں سکھائی کہ الفاظ یاد کراتا بلکہ اشیاء کو پیش کر کے اور ان کے اعمال دکھا کر ان کے نام بتائے اور جب فرشتوں کے سبق کا وقت آیا تو انہیں بھی صرف الفاظ میں جواب نہیں دیا گیا بلکہعَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓىِٕكَةِ فرشتوں کے سامنے بھی اصل اشیاء کو یا ان کے کشفی وجود کو پیش کر کے پھر آدم سے کہا کہ ان کے نام بتائو کیونکہ علم سکھانے کا مؤثر ترین طریقہ یہی ہے کہ اصل چیز یا اس کے نمونہ یا تصویر کو پیش کر کے اس کا نام اور کام بتایا جائے اس طرح سبق خوب یاد رہتا ہے پس پہلا سبق جو کنڈرگارٹن کے اصول پر دیا گیا وہ نہ تھا جو جرمنی میں دیا گیا بلکہ جنت یا باغ آدم پہلا کنڈرگارٹن کا سکول تھا جس میں خدا تعالیٰ کی وحی نے پہلے آدم کو اور پھر آدم کے ذریعہ سے فرشتوں کو اسماء کا سبق