تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 40
کے ہاتھ میں دیتا ہے جن سے وہ روحانی ترقی کر سکے۔پھر بندہ جب ان سامانوں سے فائدہ اٹھاتا ہے تو اس کے اعلیٰ سے اعلیٰ نتائج پیدا کرتا ہے اور انعامات کے ایک لمبے سلسلہ کے بعد بندہ کی جدوجہد کا آخری نتیجہ نکالتا ہے یعنی اسے دنیا پر غالب کر دیتا ہے اور اپنی مالکیت کی صفت اس کے لئے ظاہر کر کے اسے دنیا پر غلبہ دے دیتا ہے۔اس کے برخلاف جب بندہ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرتا ہے تو اسے پہلے مالک کی صفت کا مظہر ہونا پڑتا ہے یعنی وہ انصاف اور عدل کو دنیا میں جاری کرتا ہے مگر اس کے انصاف کے ساتھ رحم کی ملونی ہوتی ہے۔اور عفو کا پہلو غالب ہوتا ہے جس کے معنے اِیصالِ شرَ سے اجتناب کے ہیں۔جب بندہ اور ترقی کرتا ہے تو رحیمیت کی صفت کا مظہر ہو جاتا ہے۔یعنی جو لوگ اس کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ ان کے کاموں کی قدردانی کرتا ہے بلکہ ان کے حق سے زیادہ ان پر انعام کرتا ہے یعنی اِیصالِ خیر کی عادت اس میں پائی جاتی ہے جسے اِحسان کہتے ہیں۔پھر اس کے اوپر انسان ترقی کرتا ہے اور رحمانیت کی صفت کا ظہور اس کے ذریعہ سے ہونا شروع ہوتا ہے اور وہ اپنے پرائے سب سے نیک سلوک کرنا شروع کرتا ہے اور اس کا دل وسیع ہو جاتا ہے اور وہ رحمانیت کا مظہر بن جاتا ہے۔کافر و مومن سب کی محبت اس کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے۔اور خواہ کسی نے اس سے حسن سلوک کیا ہو یا نہ کیا ہواس کی خواہش ہوتی ہے کہ سب سے نیک سلوک کرے اسے اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰی کی حالت کہتے ہیں۔یعنی جس طرح ماں اپنے بچہ کی خدمت اطاعت کا خیال کئے بغیر یا کسی بدلہ کی امید رکھے بغیر کرتی ہے اسی طرح یہ شخص بنی نوع انسان کا خیر خواہ ہو جاتا ہے پھر اس مقام سے ترقی کر کے انسان ربّ العالمین کا مظہر ہو جاتا ہے یعنی اس کی نظر فرد سے اُٹھ کر نظام تک جا پہنچتی ہے۔اور وہ اپنے آپ کو دنیا کا نگران اور داروغہ سمجھ لیتا ہے اور دنیا کی اصلاح کی طرف بحیثیت مجموعی توجہ کرتا ہے اور سوسائٹی کی حالت کو بدل ڈالتا ہے۔یہ صعود اور ہبوط کی راہیں جو ان صفات میں بیان کی گئی ہیں۔سلوک کے اعلیٰگرُ اپنے اندر مخفی رکھتی ہیں اور سالکوں کے لئے ایک عظیم الشان رحمت ہیں۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُؕ۰۰۵ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔حَلّ لُغات۔اِیَّاکَ۔اِیَّاکَ عام قاعدہ کے رو سے نَعْبُدُکَ چاہیے تھا مگر معنوں میں اختصاص پیدا کرنے کے لئے ک کو پہلے لایا گیا۔اور چونکہ ک اکیلا پہلے نہیں آ سکتا اس لئے اِیَّا کوجو ضمیر منصوب ہے اس پر بڑھایا