تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 436 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 436

الہامِ الٰہی پانے والا وجود وہ تھا جو نطفہ سے پیدا ہونے والا تھا یعنی سب سے پہلے حیوانی شکل اختیار کرنے والا وجو د ملہم من اللہ نہ تھا بلکہ اس کی نسل میں سے ایک کامل وجود اس مقام کا مستحق ہوا جس کا نام قرآنِ کریم کے رو سے آدم تھا (۴) اس سے پہلے ملہم کے زمانے میں اس کے علاوہ اس کے اور ہم جنس بھی تھے اور انہی کے نظام اور ہدایت کے لئے اسے خلیفہ بنایا گیاتھا۔یہ لوگ اس کے ساتھ اس جنت ِ اَرضی میں رہتے تھے جس میں آدم علیہ السلام رکھے گئے تھے اور ان کے ساتھ ہی وہ اس جنت ِ اَرضی سے نکالے بھی گئے۔اس شبہ کا جواب کہ اگر آدم اور ان کی بیوی ایک ہی جوڑا تھے تو ان کی اولاد کی شادی کس سے ہوئی تھی اگر اوپر کے مطالب کو درست سمجھا جائے (اور َمیں سمجھتا ہوں کہ َمیںقرآنِ کریم کی مختلف آیات سے اس امر پر کافی روشنی ڈال چکا ہوں کہ وہ مطالب درست ہیں) تو یہ امر بھی واضح ہو جاتا ہے کہ بعض لوگوں کا یہ ُشبہ کہ آدم اور اس کی بیوی اگر ایک ہی جوڑا تھے تو پھر اُن کی اولاد کی شادی کس سے ہوئی تھی اگر بھائی بہنوں کی آپس میں شادی ہوئی تھی تو یہ قابلِ اعتراض اور گھنائونا امر ہے۔بے بنیاد شبہ ہے کیونکہ اوپر کی تشریح کے مطابق شریعت آدم سے شروع ہوئی اور اس وقت تک بہت سے دوسرے انسان پیدا ہو چکے تھے باقی رہا ان سے پہلے کا زمانہ سو اس وقت تک انسانی دماغ بالقوۃ انسانی دماغ نہ بنا تھا اور شریعت کو سمجھنے یا اس پر عمل کرنے کے قابل ہی نہ تھا پس اس کے کسی فعل کو قابل اعتراض نہیں کہا جا سکتا نیز یہ بھی ضروری نہیں کہ آدم علیہ السلام سے پہلے کے بشر ایک ہی جوڑے سے ترقی پاکر بنے ہوں جس طرح یہ ممکن ہے کہ وہ ایک ہی جوڑے سے ترقی پا کر بنے ہوں اسی طرح یہ بھی ممکن ہے بلکہ زیادہ قرین قیاس ہے کہ وہ کئی جوڑوں سے ترقی پا کر بنے ہوں۔ابتداء نسل انسانی کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک انگریز سے مکالمہ اس بارہ میں مَیں بانی ٔسلسلہ احمد یہ علیہ السلام کے اس مکالمہ کے ذکر کے بغیر نہیں رہ سکتا جو ان میں اور ایک آسٹریلین اسٹرانومسٹ کے درمیان ہوا یہ آسٹریلین پروفیسر ۱۹۰۸ ء میں ہندوستان کی سیر کو آیاتھا اور اس نے ہندوستان کے مختلف شہروں میں لیکچر بھی دیئے تھے۔جن دنوں وہ لاہور میں تھا وہ بانی سلسلہ احمدیہ سے بھی ملا تھا اور اس نے ان سے اس مضمون کے بارے میں سوال کیا تھا۔اس کا سوال اور آپ کا جواب اس بارہ میں میں ذیل میں نقل کرتا ہوں۔سوال۔بائبل میں لکھا ہے کہ آدم یا یوں کہیے کہ پہلا انسان جَیحُوْن سَیْحُون میں پیدا ہوا تھا اور اس کا وہی ملک تھا تو پھر کیا یہ لوگ جو دنیا کے مختلف حصوں امریکہ۔آسٹریلیا وغیرہ میں پائے جاتے ہیں یہ اس آدم کی اولاد سے ہیں؟