تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 419
نگاہ سے دیکھی جاتی ہے اس میں ویدوں کے بیان کی تشریح اس طرح کی گئی ہے ’’اس کو (یعنی ایشور کو) تنہائی میں آنند نہ ہوا (یعنی خدا تعالیٰ نے محسوس کیا کہ وہ اکیلا آرام سے نہیں رہ سکتا) اس لئے دنیا میں اکیلے کسی کو انند نہیں آتا (تب) اس نے دوسرے ساتھی کو چاہا (پھر) وہ اتنا موٹا ہوا کہ جتنے دومرد عورت مل کر ہوتے ہیں اس کے بعد اس نے (آتمایا ایشورنے) اپنے موٹے جسم کے دو حصے کئے ایک حصہ سے تو مرد اور دوسرے سے عورت بنی (پھر) اس سے (دوسرے) انسان پیدا ہوئے‘‘ اس کے آگے مخلوق بننے کی تفصیل اس طرح لکھی ہے ’’عورت نے دیکھا کہ اس نے (یعنی ایشور نے) مجھ کو اپنے جسم سے بنا کر مجھ سے رَ َمنْ (یعنی مواصلت) کیا ہے اس لئے وہ دُکھ کے مارے کہیں چھپ گئی اور گائے بن گئی تب ُپرش نے بھی سانڈھ بن کر اُس گائے سے صحبت کی تب اُس سے گائے کی نسل پیدا ہوئی۔اسی طرح وہ شرم کے مارے دوسرے حیوانات کی شکل اختیار کرتی چلی گئی اور پرمیشور بھی اسی جانور کے نر کی شکل میں اس سے صحبت کرتا رہا اور تمام حیوانات چرند پرند کی پیدائش ظہور میں آئی۔(برہدا رنیک اُپنشد ادھیائے نمبر۱ براہمن نمبر ۴ کھنڈ نمبر ۱ تا ۴) َمنوُ َسمرتی میں جانوروں کے بننے کا ذکر تو نہیں لیکن اس طریقِ پیدائش کو تسلیم کیا گیا ہے ( َ منوُ َسمرَتی ادھیائے نمبر ۱ شلوک نمبر ۳۲) پَرشَن اُپنشد میں لکھا ہے ’’پرجاپتی (ایشور) کو مخلوق کی خواہش ہوئی تو اس نے تپ کیا (ریاضت کی) اور تپ کرنے کے بعد ایک جوڑا پیدا کیا رییٖ اور پَران (مادہ اور زندگی) اس لئے کہ یہ دونوں مل کر میرے لئے مختلف قسم کی مخلوق پیدا کریں گے۔( پَرشَن اُپنشد پرشن نمبر ۱ منتر ۳ و ۴) آئیتری اُپنشد میں لکھا ہے آغاز میں بیشک اکیلا صرف آتما (ایشور) ہی تھا اور کچھ بھی آنکھ جھپکتا ہوا نہ تھا اس نے سوچا میں لوکوں (کرہ ہائے عالم) کورَچوں اس نے لوکوں (آسمان و زمین) کو بنایا…… تب اس نے دیکھا یہ ہیں لوگ تب اس نے سوچا لوک پالوں (ان کروں میں رہنے والوں) کو بنائوں تب اس نے پانیوں میں سے ہی نکال کر پرُش کو بنایا اس نے اسے تپایا جب وہ تپ گیا تو اس (پرُش) کا منہ ُکھلا جیسے انڈا پھٹتا ہے منہ سے کلام ظاہر ہوئی کلام سے آگ پھر دونوں نتھنے کھلے نتھنوں سے سانس کھلا۔سانس سے ہوا (نکلی) دونوں آنکھیں کھلیں آنکھوں سے بصارت (پیدا ہوئی) بصارت سے سورج (بنا) کان ُکھلے کانوں سے قوّتِ سماعت (پیدا ہوئی) قوّتِ سماعت سے اطراف بدن سے کھال ظاہر ہوئی اس سے روئیں پیدا ہوئے ان روئوں سے ادویات بوٹیاں پیدا ہوئیں دل کھلا دل سے من (قوتِ فکریہ پیدا ہوئی) مَنْ سے چاند پیدا ہوا۔ناف کھلی ناف سے اَپان وَایُو (قوتِ ہاضمہ پیدا ہوئی) اس سے موت۔عضو مخصوص کھلا اس سے بیج نکلا بیج سے پانی پیدا ہوا (آئیتری اُپنشد ادھیائے نمبر ۱ کھنڈ ۱)