تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 408
کی طرف سے کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے اس وقت کے ظاہری تقویٰ شعار لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے پھر جو تقویٰ کے اصلی مقام پر ہوتے ہیں وہ تو اپنی غلطی کو سمجھ جاتے ہیں اور وقت کے امام کو مان لیتے ہیں لیکن جن کا تقویٰ کامل نہیں ہوتا وہ ٹھوکر کھا جاتے ہیںاور آخر ملائکہ کی صف سے نکل کر ابلیسوں کی صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں یہ نظارہ بھی ہر نبی کے زمانہ میں نظر آتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ایک شخص زید نامی کا ہمیں پتہ ملتا ہے جواپنے آپ کو ابراہیمی دین پر کہتا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے عرب میں شرک کے خلاف لیکچر دیتا پھرتا تھا۔ایک دفعہ اس شخص کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھانے کا موقع ملا تو اس نے کھانا کھانے سے انکار کر دیا کہ میں مشرکوں کے ساتھ کھانا نہیں کھاتا تو آپؐ نے فرمایا کہ میں نے تو کبھی شرک نہیں کیا۔جب آپؐ نے دعویٰ کیا تو اس شخص کو ایمان لانے کی توفیق نہ ملی کیونکہ اس نے کہا کہ اگر خدا تعالیٰ نے نبی بنانا ہوتا تو مجھے بناتا جس نے اس قدر شرک کے خلاف جہاد کیا ہے (بخاری کتاب مناقب الانصار باب حدیث زید بن عمرو بن نفیل و سیرت ابن ہشام ذکر ورقۃ بن نوفل… وزید بن عمروبن نفیل) یہ شخص بعثت نبوی سے پہلے گویا عربوں میں ایک فرشتہ کا رنگ رکھتا تھا مگر اس کے دل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے گریز کیا اور آپ ؐ کی بعثت کو لغو قرار دیا اور ایمان سے محروم رہ گیا۔ایسے وجود ہر نبی کے زمانہ میں ہوتے ہیں اور باوجود ملائکہ کے اَظلال ہونے کے نبی کی بعثت پر اعتراض کر کے ابلیس بن جاتے ہیں۔باقی رہا تیسرا سوال کہ جو فرشتوں نے کہا وہ پورا ہوااور خدا تعالیٰ کا مقصد پورا نہ ہوا۔یہ بھی نا سمجھی پر دلالت کرتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے کب کہا کہ انسانوں میں فساد اور سفکِ دماء نہیں ہو گا۔یہ مضمون تو خلیفہ کے لفظ سے ہی ظاہر تھا۔اللہ تعالیٰ تو صرف یہ فرماتا ہے کہ باوجود اس کے کہ آدم کے خلیفہ ہونے کے معنے ہی یہ ہیں کہ اب انسانی افعال شریعت کے تابع ہوں گے اور اس کے افعال آئندہ فساد اور سفکِ دم کہلائیں گے پھر بھی انسان کی پیدائش ایک ایسی غرض کو پورا کرے گی جو کوئی دوسری مخلوق پورا نہیںکر سکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کی اس بات کو ردّ نہیں کرتا کہ انسان سے فساد و خون کا ظہور ہو گا بلکہ صرف یہ فرماتا ہے کہ اِنِّيْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ یعنی آدم کے ذریعہ سے ایک نئے نظام میں جو غرض پوشیدہ ہے وہ باوجود فساد اور سفکِ دم کے ایسی اہم ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔الفاظ آیت کو معترض غور سے دیکھیں تو یہاں یہ نہیں کہا کہ جو تم جاننے کا دعویٰ کرتے ہو غلط ہے بلکہ یہ کہاہے کہ جو تم نہیں جانتے اسے میں جانتا ہوں پس فرشتوں کے قول کو ردّ نہیںکیا بلکہ اس سے زائد امور کی طرف اشارہ کیا ہے جو فرشتوں کے شبہ کے درست ہونے کے باوجود انسان کی ضرورت کو ثابت کرتے ہیں۔غرض خدا تعالیٰ کی بات ہی پوری ہوئی۔