تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 35

مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِؕ۰۰۴ جزا سزا کے وقت کا مالک (ہے)۔حل لغات۔مَالِکِ۔مَالِکِ۔مَلَکٌ اور مَلِکٌ تین ملتے جلتے ہوئے لفظ ہیں۔مالک جسے کسی چیز پر جائز قبضہ اور اقتدار حاصل ہو۔مَلَکٌ۔فرشتہ۔اور مَلِکٌ بادشاہ یعنی جسے سیاسی اقتدار حاصل ہو۔یَوْمٌ۔یَوْمٌ اس کے معنی مطلق وقت کے ہوتے ہیں قرآن کریم میں ہے۔اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ (الحج:۴۸) خدا تعالیٰ کا بعض دن ہزار سال کا ہوتا ہے۔ایک شاعر کہتا ہے ؂ یَوْمَاہُ یَوْمُ نِدًی وَیَوْمَ طَعَانٍ میرے ممدوح پر دو ہی قسم کے وقت آتے ہیں۔یا ِتو وہ سخاوت میں مشغول ہوتا ہے یا دشمنو ںکو قتل کرنے میں۔اسی طرح عرب کہتے ہیں۔یَوْمَاہُ یَوْمُ نُعْمٍ وَیَوْمُ بُؤسٍ اَیْ اَلدَّھْرُ۔یعنی زمانہ دو حال سے خالی نہیں یا تو انسان کے لئے نعمتیں لاتا ہے یا تکالیف لاتا ہے۔(لسان العرب) اسی طرح سیبویہ کا قول ہے کہ عرب کہتے ہیں۔اَنَا الْیَوْمَ اَفْعَلُ کَذَا لَا یُرِیْدُوْنَ یَوْمًا بِعَیْنِہٖ وَلٰـکِنَّھُمْ یُرِیْدُوْنَ الْوَقْتَ الْحَاضِرَ (لسان العرب) یعنی جب کہتے ہیں کہ میں آج کے دن اس اس طرح کروں گا تو اس سے مراد چوبیس گھنٹہ والا دن نہیں ہوتا بلکہ اس سے مراد صرف موجودہ وقت ہوتا ہے۔اسی طرح اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ جو قرآن کریم میں آتا ہے۔اس سے بھی مُراد معروف دن نہیں بلکہ زمانہ اور وقت مراد ہے۔(لسان العرب) پھر لکھا ہے وَقَدْ یُرَادُ بِالْیَوْمِ اَلْوَقْتُ مُطْلَقًا وَمِنْہُ الحَدِیْثُ تِلْکَ اَ یَّامُ الْھَرَجِ اَیْ وَقْتُہٗ (لسان العرب) یعنی کبھی یوم سے مطلق وقت مراد ہوتا ہے جیسے حدیث میں ہے کہ یہ دن فتنہ اور لڑائی کے دن ہیں۔مراد یہ کہ یہ فتنہ اور لڑائی کا زمانہ ہے۔اَلدِّیْنُ۔اَلْجَزَاءُ وَ الْمُکَافَاۃُ۔بدلہ۔اَلطَّاعَۃُ۔اطاعت۔اَلْحِسَابُ۔محاسبہ۔اَلْقَھْرُ وَ الْغَلَبَۃُ وَالْاِسْتِعْـلَآءُ غَلَبَۃُ السُّلْطَانِ وَالْمَلَکِ وَالْحَکَمِ۔تصرّف۔حکومت۔اَلسِّیْرَ ۃُ خصلت۔اَلتَّدْ بِیْرُ۔تدبیر۔اِسْمٌ لِـجَمِیْعِ مَایُعْبَدُ بِہِ اللّٰہُ وہ تمام طریقے جن سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے وہ سب دین کہلاتے ہیں۔یعنی شریعت۔نیز اس کے معنی ہیں۔اَلْمِلَّۃُ۔مذہب۔اَلْوَرَعُُ۔نیکی۔اَلْمَعْصِیَۃُ نافرمانی۔اَلْحَالُ۔کیفیت۔اَلْقَضَائُ۔فیصلہ۔اَلْعَادَۃُ۔عادت۔اَلشَّانُ۔خاص حالت۔(اقرب)