تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 397
یا شریک یا ذات یا صفات میں اس کا کوئی حصہ دار ہو۔(لسان) مصنف تاج العروس لکھتے ہیں کہ جب ہم اللہ تعالیٰ کے لئے سُبْحَانَکَ کے الفاظ استعمال کریں تو اس کے معنے ہوں گے اُنَزِّھُکَ یَا رَبِّ مِنْ کُلِّ سُوْءٍ وَاُبَرِّئُکَ کہ اے میرے ربّ! میں تجھے ہر نقص سے پاک سمجھتا ہوں اور ہر عیب سے مبرّ اقرار دیتا ہوں۔پھر لکھا ہے کہ سُبْحَانَ ہے تو مصدر لیکن فعل کے قائم مقام ہو کر استعمال ہوتا ہے۔اور جب اللہ تعالیٰ کے لئے اسے استعمال کریں تو اس کے مفہوم میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے کامل پاکیزگی کا اقرار پایا جائے گا چنانچہ لکھا ہے دَلَّ عَلَی التَّنْزِیْہِ الْبَلِیْغِ مِنْ جَمِیْعِ الْقَبَائِـحِ الَّتِیْ یُضِیْفُہَا اِلَیْہِ الْمُشْرِکُوْنَ کہ یہ لفظ اس وقت ایسی کامل پاکیزگی پر دلالت کرے گاجو ان تمام عیوب سے اللہ کی ذات کو پاک قرار دیتی ہو جو اس کی طرف مشرک لوگ اس کی ذات کو کماحقّہٗ نہ سمجھ کر منسوب کر دیتے ہیں نیز لکھا ہے فِی الْعَجَائِبِ لِلْکِرْ مَا نِیْ اَنَّ سُبْحَانَ مَصْدَرُ سَبَّحَ اِذَا رَفَعَ صَوْتَہُ بِالدُّعَاءِ وَالذِّکْرِ کہ کرمانی اپنی کتاب عجائب میں لکھتے ہیں کہ سُبْحَانَ سَبَّحَ کا مصدر ہے اور یہ اس وقت بولیں گے جبکہ کوئی شخص اپنی آواز دعا اور ذکر کے ساتھ بلند کرے۔وَالتَّسْبِیْحُ قَدْ یُطْلَقُ وَیُرَادُ بِہِ الصَّلٰوۃُ وَالذِّکْرُ وَالتَّحْمِیْدُ وَالتَّمْجِیْدُ۔کبھی لفظ تسبیح سے مراد نماز۔ذکر الٰہی۔خدا تعالیٰ کی تحمید اور اس کی بزرگی کا اقرار و اظہار کرنا ہوتا ہے۔( وَسُمِّیَتِ الصَّلٰوۃُ تَسْبِیْحًا لِاَنَّ التَّسْبِیْحَ تَعْظِیْمُ اللّٰہِ وَتَنْزِیْھُہٗ مِنْ کُلِّ سُوْءٍ نماز کو تسبیح کے نام سے اس لئے موسوم کرتے ہیں کہ تسبیح سے مراد اللہ تعالیٰ کی عظمت کا اظہار اور اس کو جملہ عیوب و نقائص سے مبرّ اقرار دینا ہوتا ہے اور نماز میں بھی یہی امور مدِّنظر ہوتے ہیں)۔(تاج) امام راغب لکھتے ہیں اَلتَّسْبِیْحُ تَنْزِیْہُ اللّٰہِ تَعَالٰی کہ تسبیح کے معنی اللہ تعالیٰ کی ذات کو جملہ نقائص سے پاک سمجھنے او رپاک قرار دینے کے ہیں۔وَاَصْلُہٗ اَلْمَرُّ السَّرِیْعُ فِیْ عِبَادَۃِ اللّٰہِ تَعَالٰی اور تسبیح کے اصل معنے وضع لغت کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں جلدی جلدی تیزی سے گزرنے کے ہیں کیونکہ اس کا اصل مادہ اَلسَّبْحُ ہے جس کے معنے تیزی سے ہوا میں یا پانی میں گزرنے کے ہیں وَجُعِلَ ذٰلِکَ فِیْ فِعْلِ الْخَیْرِ کَمَا جُعِلَ الْاِ بْعَادُ فِی الشَّرِّ فَقِیْلَ اَبْعَدَہُ اللّٰہُ یعنی تسبیح کا لفظ اس وقت بولا جاتا ہے جب کمال کا ذکر مقصود ہو اور اس کے برخلاف اِبْعَاد کا لفظ اس وقت بولا جاتا ہے جب کسی حقیقی کمزوری اور خرابی سے حفاظت کا ذکر کرنا ہو۔وَجُعِلَ التَّسْبْیِحُ عَامًا فِیْ الْعِبَادَاتِ قَوْلًا کَانَ اَوْ فِعْـلًا اَوْ نِیَّۃً۔نیز لفظ تسبیح کے اند رہر قسم کی عبادات آ جاتی ہیں۔خواہ وہ عبادات قولاً ہوں، خواہ فِعْـلًا یا نِیّۃً۔(مفردات) بِحَمْدِکَ۔حمد کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ الفاتحۃ آیت۲۔