تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 396

اَ لْاَرْضُ۔کی تشریح کے لئے دیکھو حل لغات سورۃ البقرۃ آیت۲۳۔خَلِیْفَۃ۔مَنْ یَّخْلُفُ غَیْرَہٗ وَیَقُوْمُ مَقَامَہٗ جو کسی کا قائم مقام اور جانشین ہو (۲) اَلسُّلْطَانُ الْاَعْظَمُ حاکمِ اعلیٰ۔شاہنشاہ (۳) وَفِی الشَّرْعِ اَ لْاِمَامُ الَّذِیْ لَیْسَ فَوْقَہٗ اِمَامٌ۔اور شرعی لحاظ سے خلیفہ کے یہ معنی ہوں گے کہ وہ پیشرو اور حاکم جس کے اوپر اورکوئی حاکم نہ ہو۔اور اَلْخِلَافَۃُ کے معنے ہیں اَ لْاِمَارَۃُ حکومت۔اَلنِّیَا بَۃُ عَنِ الْغَیْرِ اِمَّا لِغَیْبَۃِ الْمَنُوْبِ عَنْہُ اَوْ لِمَوْتِہٖ اَوْ لِعَجْزِہٖ اَوْ لِتَشْرِیْفِ الْمُسْتَخْلَفِ۔یعنی دوسرے کی نیابت کرنا خلافت کہلاتا ہے خواہ وہ نیابت جس کی نیابت کی گئی ہو اس کی غیر حاضری کی وجہ سے ہو یا موت یاکام سے عجز کی وجہ سے ہو اور بعض اوقات یہ نیابت صرف عزت افزائی کے لئے ہوتی ہے جیسے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو زمین پر خلیفہ بناتا ہے تو یہ صرف ان کے اعزاز کی خاطر ہوتا ہے نہ کہ کسی اور وجہ سے اور شرعی معنے خلافت کے امامت کے ہیں۔(اقرب) یَسْفِکُ۔یَسْفِکُ سَفَکَ سے مضارع واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے اور سَفَکَ الدَّ مَ کے معنے ہیں صَبَّـہٗ۔خون کو بہایا (اقرب) پس یَسْفِکُ کے معنی ہوں گے وہ بہائے گا۔اَلدِّمَاءَ۔اَلدِّمَاءَ اَلدَّمُ کی جمع ہے اور اَلدَّمُ کے معنے ہیں خون۔(اقرب) نُسَبِّحُ۔نُسَبِّحُ سَبَّحَ سے مضارع متکلّم مع الغیر کا صیغہ ہے اور سَبَّحَ اللّٰہَ کے معنی ہیں نَزَّھَہٗ اللہ تعالیٰ کی ذات کو تمام عیوب و نقائص سے پاک سمجھا اور مبرّ ا قرار دیا (بعض اوقات سَبَّحَ کا صلہ لام آتا ہے چنانچہ سَبَّحَہٗ کی بجائے سَبَّحَ لَہٗ کہہ دیتے ہیں لیکن معنی دونوں کے ایک ہی ہوتے ہیں) بعض اوقات سَبَّحَ کے معنے صَلَّی کے ہوتے ہیں۔یعنی اس نے نماز ادا کی۔نیز بعض اوقات سَبَّحَکا لفظ بولتے ہیں اور مراد یہ ہوتی ہے کہ اس نے سُبْحَانَ اللّٰہِ کہا۔(اقرب) لسان میں ہے اَلتَّسْبِیْحُ اَلتَّنْزِیْہُ یعنی تسبیح کے معنی ہیں پاک قرار دینا اور پاک سمجھنا۔او رجب سُبْحَانَ اللّٰہِ کہیں تو اس کے معنی ہوں گے تَنْزِیھًا لِلّٰہِ مِنَ الصَّاحِبَۃِ وَالْوَلَدِ یعنی اللہ تعالیٰ کو بیوی اور لڑکے سے پاک قرار دینا وَقِیْلَ تَنْزِیْہُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَنْ کُلِّ مَالَا یَنْبَغِیْ لَہٗ اَنْ یُوْصَفَ بِہٖ اور بعض ائمہ لغت نے یہ کہا ہے کہ جب سُبْحَانَ اللّٰہِ کا فقرہ کہیں تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو تمام اُن باتوں سے مبرّ اقرار دینا جو اس کے شایان و مناسب حال نہیں۔پھر لکھا ہے وَجِمَاعُ مَعْنَاہُ بُعْدُہٗ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی عَنْ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗ مِثْلٌ اَوْ شَرِیْکٌ اَوْنِدٌّ اور سُبْحَانَ اللّٰہِ کے جامع معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے پاک ہے کہ اس کا کوئی مثل