تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 389
ردّ کرتا ہے۔دوسرا امر اس سے یہ نکلتا ہے کہ جن چیزوں میں فوائد نکلیں اگر وہ مرکب ہوں تو جن اجزاء سے وہ بنی ہیں آگے وہ اجزاء بھی پھر انسان کے لئے مفید ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا۔جَمِیْعًا کا لفظ اِسی طرف اشارہ کرنے کے لئے ہے کہ خواہ مفردات ہوں ،خواہ مرّکبات، خواہ ذرّات ہوں، خواہ مجموعۂ ذرّات۔سب کی سب اشیاء انسان کے لئے مفید ہیں پس اگر سائنس کسی مرکب وجود کو پھاڑ کر اس کے اجزاء دریافت کرے تو قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق ان مفرادت میں پھر آگے اور فوائد مخفی نکلیں گے اور صرف فوائد مخفی نہ ہوں گے بلکہ ایسے فوائد مخفی ملیں گے جو انسان کے لئے مفید ہوں گے۔تیسرے یہ بتایا گیا ہے کہ جو چیزیں بظاہر انسانی زندگی یا اس کے جسم کے لئے مضر نظر آتی ہیں ان میں بھی انسان کے فائدہ کے اسباب موجود ہیں خواہ کوئی کس قدر ہی خطرناک زہر کیوں نہ ہو۔اس کا بھی کوئی نہ کوئی مفید استعمال ضرور ہے جس میں انسان کے لئے فائدہ کا پہلو ہے۔اس نکتہ کو سمجھ کر لوگوں نے سنکھیا۔کچلہ، سانپ کے زہروں وغیرہ سے فوائد طیّبہ حاصل کئے ہیں مگر افسوس کہ اس کتاب کے کمال کا اعتراف نہیں کیا۔جس نے ان ایجادات سے بہت پہلے اس زبردست سچائی کی طرف اشارہ کیا تھا۔اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ کیا گیاہے کہ اس دنیا میں جو کچھ ہے وہ تمہارے فائدہ کے لئے ہے پس اس کو فساد اور جھگڑے کا ذریعہ بنانا درست نہیں۔دنیا میں جو کچھ ہے سب بنی نوع انسان کی مشترک وراثت ہے اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہے سب بنی نوع انسان کی مشترک وراثت ہے پس اس کا استعمال اس رنگ میں نہ ہونا چاہیے کہ وہ ایک فرد یا ایک قوم کی مخصوص ملکیت ہوجائے اس نکتہ کو نظرانداز کر کے اس وقت یورپ تباہی کی طرف جا رہا ہے اگر قرآن کریم کی اس تعلیم پر عمل کیا جاتا تو یہ حسد اور بغض جو مختلف ممالک اور مختلف اقوام اور مختلف گروہوں اور مختلف افراد میں پیدا ہو رہا ہے کبھی نہ ہوتا۔اسلام نے صدقہ اور زکوٰۃ کا حکم بھی اسی اصل پر مبنی رکھا ہے کہ اصل میں زمین کی سب اشیاء سب انسانوں کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور انسان مجموعی طور پر ان کا مالک ہے پس گو انفرادی قبضہ کو تسلیم کیا جائے مگر یہ ایسے رنگ میں نہیں ہونا چاہیے کہ دوسرے حقدار اس سے فائدہ اُٹھانے سے ُکلیّ طور پر محروم ہو جائیں۔آیت ھٰذا میں مذاہب کی جنگ کا فیصلہ اس آیت میں مذاہب کی جنگ کا بھی عجیب طرح فیصلہ کیا گیا