تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 388

سَوّٰھُنَّ۔سَوَّی الشَّیْ ءَ تَسْوِیَۃً کے معنے ہیں جَعَلَہٗ سَوِیًّا کسی چیز کو درست کیا۔صَنَعَہٗ مُسْتَوِیًّا کسی چیز کو ایسا بنایا کہ اس کی سب ضرورتوں کا لحاظ کر لیاگیا تھا۔جب سَوَّاہُ بِہٖ یا سَوَّی بَیْنَہُمَا کہیں تو معنے ہوں گے عَدَّلَ کہ دو چیزوں کو برابر کر دیا (اقرب) اس آیت میں سَوّٰھُنَّ کے معنے ہوں گے کہ ان کو ایسا بنایا کہ ان کی سب ضرورتوں کا لحاظ کر لیا گیا تھا۔سَبْعٌ۔سَبْعٌ کے معنے کبھی سات کے ہوتے ہیں اور کبھی زیادہ کے۔سَبْعٌ سے مراد ضروری نہیں کہ سات ہی ہو کیونکہ عربی زبان میں سات اور سترّ کے الفاظ مجرّد کثرت کیلئے بھی استعمال ہوتے ہیں۔(لسان) شَیْ ءٍ۔شَیْ ءٍ کا ترجمہ اس جگہ بجائے چیز کے بات کیا گیا ہے کیونکہ اُردو میں چیز کا لفظ اس موقع پر پورا مفہوم ادا نہیں کرتا لیکن بات کا لفظ اسی مفہوم کو ادا کرتا ہے بات کے معنی اس جگہ قول کے نہیں بلکہ امر اور حقیقت کے ہیں۔تفسیر۔ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ کی تشریح ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا۔دنیا میں جو کچھ بھی ہے انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے اس رنگ میں صرف قرآن کریم ہی نے پیش کیا ہے اوّل تو اس سے شرک کا ردّ ہوتا ہے کیونکہ جب ہر چیز انسان کے لئے ہے تو پھر اس کا خدا ہونا بے معنی ہے کیونکہ خادم آقا نہیں ہو سکتا۔دوسرے اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز انسان کے فائدہ کے لئے ہے اس میں سائنس کی ترقی کا راستہ کھول دیا کیونکہ سائنس کا دارو مدار تحقیق پر ہے اور تحقیق اسی وقت شروع ہو سکتی ہے جب یہ یقین ہو کہ جس چیز کے بارہ میں تحقیق کی جائے گی اس میں سے کوئی فائدہ مند علم پیدا ہو گا۔آیت خَلَقَ لَکُمْ الخ میں قرآن کریم کا جہالت کے زمانہ میں ایک علمی بیان پس جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ دنیا جہان کی ہر چیز انسان کے فائدہ کے لئے ہے تو اوّل یہ ثابت ہوا کہ دنیا کی کوئی چیز نہیں جس میں فائدہ نہ ہو۔کسی ردّی سے ردّی شے کو بھی بیکار نہ سمجھنا چاہیے کیونکہ اگر کوئی ایک چیز بھی دنیا کی بے کار ثابت ہو تو یہ آیت غلط ہو جاتی ہے۔کس جہالت کے زمانہ میں قرآن کریم نے یہ زبردست علمی بات بیان فرمائی۔اس زمانہ میں تو سوائے دنیا کی محدو دے چند چیزوں کے باقی سب چیزوں کو بے کار محض خیال کیا جاتا تھا لیکن قرآن کریم نے فرمایا یہ غلط ہے کوئی چیز بے کار محض نہیں بلکہ ہر چیز انسان کے فائدہ کے لئے ہے آج ہزاروں لاکھوں اشیاء کے فوائد معلوم ہو چکے ہیں اور باقیو ںکے آئندہ معلوم ہوتے چلے جائیں گے اور جو کوئی کہے کہ دنیا کی ایک شے بھی ایسی ہے کہ بے کار ہے اور اس میں انسان کے فائدہ کا کوئی سامان نہیں ہے وہ جاہل ہے اور قرآن کریم اس کی بات کو