تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 387
والی پیشگوئی کی طرف اشارہ کیا ہے۔اِن معنوں کے رُو سے ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ سے یہ مراد ہو گی کہ پھر قیامت آجائے گی اور اس طرف اشارہ نکلے گا کہ دینِ اسلام آخری دین ہے اور اس کے بعد قیامت تک کوئی اَور دین یا مذہب نہیں۔هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا١ۗ ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى وہ (خدا ) وہی (تو)ہے جس نے ان تمام چیزوں کو جو زمین میں ہیں تمہارے(فائدہ کے) لئے پیدا کیا ہے۔پھر السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌؒ۰۰۳۰ وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا تو انہیں مکمل بنا دیا یعنی ساتوں آسمانوں کو اور وہ ہر ایک بات (کی حقیقت )کو خوب جانتا ہے۔حَلّ لُغَات۔خَلَقَ۔خَلَقَ کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ البقرۃ آیت۲۲۔اِسْتَوٰی۔اِسْتَوٰی کے معنی (۱) برابر ہو گیا (۲) معتدل ہو گیا (۳) اس میں کوئی کمی یا نقص باقی نہ رہا۔(۴) کھانے کے لئے آئے تو معنے ہیں َپک گیا (۵) لکڑی یا اور دھات وغیرہ کے لئے آئے تو معنے ہوں گے اس میں کجی نہ رہی (۶) انسان کے لئے ہو تو اس کے معنے ہوں گے جوان ہو گیا یا کمال کو پہنچ گیا (۷) اِسْتَوَی الْمَلِکُ عَلٰی سَرِیْرِ الْمُلْکِ کے معنے ہیں بادشاہ تخت ِ حکومت پر قابض ہو گیا (۸) اِسْتَوَیٰ عَلَی الشَّیْ ءِ کے معنی ہیں اُس پر غالب آ گیا (اقرب)۔ایک شاعر کہتا ہے۔ع فَلَمَّا عَلَوْنَا وَاسْتَوَیْنَا عَلَیْھِمٗ (محیط) یعنی جب ہم ان پر بھاری ہو گئے اور غالب آ گئے۔(۹) اِسْتَوٰی کے معنے عَلَا اور اِرْتَفَعَ کے بھی ہیں یعنی اونچا ہوا۔(۱۰) جب اس کا صلہ اِلٰی آئے تو اس کے معنی کامل توجہ کرنے کے ہوتے ہیں۔(اقرب) اَلسَّمَآءُ۔اسم جنس ہے ایک کے لئے بھی بولا جاتا ہے اور زیادہ کے لئے بھی۔چونکہ آگے اس کی طرف جمع کی ضمیر پھیری گئی ہے معلوم ہوا یہاں جمع مراد ہے مزید تشریح کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ البقرۃ آیت۲۰۔پس ثُمَّ اسْتَوٰی اِلَی السَّمَآءِ کے معنی ہوئے پھر وہ آسمانوں کی طرف متوجہ ہوا۔