تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 386

زندگی ملنی ہے۔تو پھر کوئی ہدایت بھی <mark>اس</mark> کی طرف سے ضرور آنی چاہیے تاکہ وہ انسان کو دوسری زندگی کے لئے تیار کرے۔کیا سادہ اور لطیف <mark>اس</mark>تدلال ہے کہ ایک بیجان کو جاندار بنانے کی اللہ تعالیٰ کو کیا ضرورت تھی؟ اگر کوئی خاص مقصد <mark>اس</mark> کے سپرد نہ تھا پھر فرض کرو کہ کوئی مقصد نہ تھا تو ایک صاحب فہم و فر<mark>اس</mark>ت وجود کو پیدا کر کے مارا کیوں؟ اگر <mark>اس</mark>ی <mark>دنیا</mark> کی خوشی اور چین انسان کے لئے مقدر تھا تو پھر <mark>اس</mark> قدر لمبے عمل کے بعد بے جان سے جاندار بنا کر اِسے موت کا مزہ کیوں چکھایا جب تک کہ <mark>اس</mark> موت کے بعد ایک اور اعلیٰ حیات <mark>دین</mark>ی مدنظر نہ تھی؟ آیت وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا الخ میں <mark>اس</mark> خیال کا ردّ کہ مرنے کے بعد عذاب قبر کوئی نہیں <mark>اس</mark> آیت میں اُن لوگوںکا بھی ردّ ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ مرنے کے بعد عذاب قبر کوئی نہیں بلکہ جنت، دوزخ سے ہی جب و<mark>اس</mark>طہ پڑے گا پڑے گا کیونکہ <mark>اس</mark> میں پانچ زمانوں کا ذکر ہے۔ایک بے جان ہونے کا زمانہ۔دوسرا دنیوی زندگی کا زمانہ۔تیسرا جسمانی موت کا زمانہ۔چوتھا پھر ایک نئی زندگی کا زمانہ اور <mark>اس</mark> کے بعد وہ زمانہ جب انسان خدا تعالیٰ کے حضور میں پیش ہو گا۔یعنی حشر موت کے بعد حیات اور حیات کے بعد ثُمَّ کا لفظ رکھ کر اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ فرمانا بتاتا ہے کہ موت کے جلد بعد ایک قسم کی حیات تو مل جاتی ہے مگر حشر بعد میں ہوتا ہے۔یہ حیات جو حشر سے پہلے ملتی ہے لازم ہے کہ <mark>اس</mark> میں کوئی نیک یا بد سلوک انسان سے ہو ورنہ <mark>اس</mark> حیات کے <mark>معنی</mark> ہی کوئی نہیں۔اور اگر نیک و بد سلوک ہوتا ہے تو معلوم ہوا کہ حشر سے پہلے بھی ایک نامکمل ثواب اور نامکمل عذاب ہے اور <mark>اس</mark>ی کو سزا و جزاء قبر کہتے ہیں۔جو احادیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ ٖوسلم سے بھی ثابت ہے قرآن کریم کی ایک اور آیت واضح طو رپر <mark>اس</mark> عذاب کا ذکر کرتی ہے۔فرماتا ہے اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِيًّا١ۚ وَ يَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ١۫ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ (المومن:۴۷) یعنی فرعون کی قوم کو صبح اور شام دوزخ کے سامنے کیا جاتا ہے۔اور جب قیامت کا دن آئے گا تو کہا جائے گا کہ آل ِفرعون کو سخت عذاب میں داخل کرو۔<mark>اس</mark> آیت سے ظاہر ہے کہ دوزخ میں داخل ہونے سے پہلے آلِ فرعون کو عذاب ملتا رہے گا اور قرآن کریم کے نزول کے وقت میں بھی مل رہا تھا۔آیت وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا الخ میں <mark>اس</mark>لام کی دو ترقیوں کی طرف اشارہ <mark>اس</mark> آیت میں جس طرح جسمانی موت کے بعد ایک حیات کے وعدہ کا ذکر ہے <mark>دنیا</mark> کی قومی موت اور زندگی کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے اور مراد یہ ہو سکتی ہے کہ <mark>دنیا</mark> مرُدہ تھی خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے ذریعہ سے <mark>اس</mark>ے زندہ کیا ہے پھر ایک دفعہ وہ مرے گی اور پھر اللہ تعالیٰ <mark>اس</mark>ے زندہ کرے گا گویا <mark>اس</mark>لام کی دو ترقیو ںکی خبر <mark>اس</mark> میں دی گئی ہے ایک شروع زمانہ میں اور ایک آخر زمانہ میں یعنی <mark>اس</mark> <mark>جگہ</mark> سورۃ جمعہ کی آیت وَ اٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ (الجمعۃ:۴)