تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 385

الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الروم :۲۰) یعنی اللہ تعالیٰ زمین کو اس کے خشک اور ویران ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے یعنی اس میں سبزہ ،چارہ اُگاتا ہے (۲) دوسرے معنی حیات کے حِس کا درست ہونا ہے اور موت کے معنے حِس کے زائل ہونے کے ہیں جیسے کہ قرآن کریم میں آتا ہے يٰلَيْتَنِيْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا (مریم :۲۴) حضرت مریم نے دردِزِہ کے وقت میں فرمایا کاش میں اس سے پہلے بیہوش ہو جاتی۔اس جگہ موت سے مراد حقیقی موت نہیں بلکہ درد کی وجہ سے انہوں نے بیہوشی کی خواہش کی ہے (۳) تیسرے معنی حیات کے علم اور عرفان کے ہوتے ہیں۔اور موت کے معنی جہالت کے ہوتے ہیں۔قرآن کریم میں آتا ہے اَوَ مَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ (الانعام :۱۲۳) یعنی کیا وہ شخص جو جاہل ہو اور پھر ہم نے اسے علم رُوحانی بخشا ہو اس جیسا ہو سکتا ہے جو اس کے برخلاف ہے؟ اسی طرح قرآن کریم میں آتا ہے فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى (الروم :۵۳) تو مُردوں کو نہیں سُنا سکتا۔مراد یہ ہے کہ تو جاہلوں سے بات نہیں منوا سکتا (۴) زندگی سے مراد خوشیاں ہوتی ہیں اور موت کے معنے تکلیفوں اور دُکھوں کے ہوتے ہیں قرآن کریم میں ہے۔يَاْتِيْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَيِّتٍ(ابراہیم :۱۸)یعنی دوزخی کو چاروں طرف سے موت آئے گی مگر وہ مرا ہوا نہ ہو گا۔یعنی غم اور پریشانی لاحق ہو گی مگر موت نہ آئے گی (۵) پانچویں معنی حیات کے جاگنے اور ہوشیار ہونے کے ہیں۔اور اس کے بالمقابل موت کے معنی نیند کے ہیں (۶) چھٹے معنے حیات کے جاندار کا سانس لینا۔یا سانس کی حالت کا پایا جانا ہے اور موت کے معنے اس کے سانس کا بند ہو جانا یا سانس کے بغیر ہونا ہے۔آیت ھٰذا میں اَمْوَاتٌ سے مراد بے جان ہونے کے اس آیت میں پہلے اَمْوَاتٌکے معنے تو بے جان ہونے کے ہیں نہ کہ وہ معنے جو اُردو میں مُردہ ہونے کے ہوتے ہیں۔یعنی یہ مراد نہیں کہ زندہ تھے اور مر گئے بلکہ یہ معنی ہیں کہ بے جان تھے پھر ہم نے تم کو زندہ کیا اور جاندار بنایا۔پھر فرماتا ہے کہ جاندار بنانے کے بعد پھر تمہاری روح قبض کرے گا اور مار دے گا۔اس کے بعد پھر زندہ کرے گا اور اس کے بعد تم اس کی طرف لوٹائے جائو گے یعنی قرآن کریم کے نزدیک انسان پر چار حالتیں آتی ہیں۔اوّل بے جان ہونا۔پھر جاندار بننا۔پھر مرنا اور پھر زندہ ہونا۔اور آخری حالت جو چاروں کا نتیجہ ہے خدا تعالیٰ کے حضور میں پیش ہونا ہے۔اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جس خدا نے تم کو بے جان سے جاندار بنایا۔اور پھر جان دینے کے بعد موت دیتا ہے۔اس کی نسبت یہ خیال کرنا کہ اس موت کے بعد دوسری زندگی نہ دے گا خلاف عقل ہے۔اور اگر دوسری