تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 384

میں اسے لایا گیا ہے ؎ وَلَقَدْ اَمُرُّ عَلَی اللَّئِیْمِ یَسُبُّنِیْ فَمَضَیْتُ ثُمَّتَ قُلْتُ لَا یَعْنِیْنِیْ (اقرب زیر لفظ ’’ثم‘‘ ) یعنی میں جب کبھی گالیاں دینے والے ایک کمینے شخص کے پاس سے گزرتا ہوں تو خاموشی سے گزر جاتا ہوں اور اپنے نفس میں کہتا ہوں کہ وہ مجھے مخاطب نہیں کرتا۔تفسیر۔کفر باللہ دو طرح ہوتا ہے کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ بِاللّٰہِ۔کفر باللہ دو طرح ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات کا انکار کرےیا اس کے احکام یا بعض صفات کا انکار کرے۔اس جگہ دوسرے معنے مراد ہیں۔خدا تعالیٰ کی ذات کا انکار مراد نہیں بلکہ کفر سے مراد کلام الٰہی کا انکار ہے جس کا ذکر اوپر وَ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا میں ہو چکا ہے۔كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ میں عقلی طو پر اللہ تعالیٰ کی صفت تکلم کی دلیل اصل ذکر آیات میں کلامِ الٰہی کا ہی تھا آگے اس کے انکار کے ذکر میں کافروں کی سزا اور مومنوںکی جزاء کا ذکر ضمناً ہوا تھا پس اس آیت میں پھر اصلی مضمون کی طرف رجوع کر کے عقلی طور پر کلام الٰہی کے ثبوت میں دلیل بیان فرمائی اور بتایا کہ تم اللہ تعالیٰ کی صفتِ تکلمّ کا انکار کر کس طرح سکتے ہو حالانکہ تم مردہ تھے اس نے تم کو زندہ کیا۔یہ دلیل اس لئے دی کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ رُوحانی زندگی بغیر وحی کے ناممکن ہے کیونکہ رُوح کی زندگی کے معنے یہ ہیںکہ وہ ابدی زندگی پانے کے قابل ہو جائے اور ابدی زندگی کا معاملہ اسرارِ قدرت میں سے ہے اِسے انسان عقلاً معلوم نہیں کر سکتا اس کے معلوم کرنے کا ذریعہ صرف ایک ہی ہے کہ خدا تعالیٰ جو اگلی زندگی کی حقیقت سے واقف ہے اپنے الہام سے اس کے مطابق قابلیت پیدا کرنے کا گرُ بتائے۔پس روحانی زندگی صرف وحی اور الہام سے مل سکتی ہے مجرد عقل اس کے ذرائع کو معلوم نہیں کر سکتی پس اس آیت میں بتاتا ہے کہ سوچو تو سہی! کہ جس خدا نے جسم کے لئے زندگی کا سامان پیدا کیا ہے کس طرح ہو سکتا ہے کہ اُخروی زندگی کا جو دنیوی زندگی سے کہیں اہم ہے سامان پیدا نہ کرے گا۔اَمْوَاتٌ کی تشریح اور مَوْتٌ کے چھ معانی اَمْوَاتٌ جمع مَیِّتٌ کی ہے۔اور ّمیت اُسے کہتے ہیں جس پر موت وارد ہو۔اور موت حیات کے مقابل کا لفظ ہے جو معنی حیات کے ہوں اس کے اُلٹ معنے موت کے ہوتے ہیں۔حیات کے معنی لغت میں (۱) نمو کے ظاہر ہونے کے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے يُحْيِ