تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 383

پھر فرماتا ہے کہ دنیا کی محبت بھی ان کی صادق نہیں ہوتی۔کیونکہ محبوب چیز کی تو عقلمند حفاظت کرتا ہے مگر وہ دنیا کو بھی خراب کر دیتے ہیں اور اس کے امن کو بدامنی سے اور اس کی خوبصورتی کو بد صورتی سے بدل دیتے ہیں اور ہونا بھی یہی چاہیے کیونکہ دنیا کو خوبصورت تو اس کا خالق ہی بنا سکتا ہے جو خالق سے منہ موڑ لیں وہ دنیا کی مشین کو سمجھ ہی کس طرح سکتے ہیں؟ او رجو کسی مشین کو سمجھتا نہیں وہ اسے خراب ہی کرے گا درست کس طرح کر سکتا ہے؟چنانچہ فرماتا ہے اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ یہ لوگ ہی گھاٹا پانے والے ہیں۔سمجھتے تو یہ ہیں کہ مومن دنیوی نعمتوں سے محروم ہو کر گویا زندگی کا لُطف کھو بیٹھے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ خود سرچشمۂ حیات سے قطع تعلق کر کے ازلی زندگی سے محروم ہو گئے ہیں۔كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ١ۚ ثُمَّ تم کس طرح اللہ (کی باتوں)کا انکار کرتے ہوحالانکہ تم بے جان تھے پھر اس نے تمہیں جاندار بنایا پھر يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ۰۰۲۹ (ایک دن آئے گا کہ ) وہ تمہیں مارے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا پھر تمہیں اسی کی طرف لوٹایا جائے گا۔حَلّ لُغَات۔تَکْفُرُوْنَ بِاللّٰہِ۔تَکْفُرُوْنَ کَفَرَ سے مضارع جمع مخاطب کا صیغہ ہے او رکَفَرَ بِاللّٰہِ کے معنی ہیں خدا کی ہستی کا انکار اس کی صفات یا احکام کا انکار کیا۔مزید تشریح کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ البقرۃ آیت۷۔اَمْوَاتًا۔اَمْوَاتًا مَیِّتٌ اور مَیْتٌ کی جمع ہے اور مَیِّتٌ اور مَیْتٌ کے معنے ہیں۔اَلَّذِیْ فَارَقَ الْحَیٰوۃَ جو زندگی سے علیحدہ ہو جاوے (اقرب) موت کے مختلف معانی ہیں جیسی زندگی ہو گی اسی کے مقابل اس چیز کے نہ ہونے کو موت کہیں گے۔مزید تشریح کے لئے دیکھو حل لغات سورۃ البقرۃ آیت۲۰۔ثُمَّ۔حرفِ عطف ہے جو ترتیب اور تراخی کے لئے آتا ہے یعنی یہ ظاہر کرتا ہے کہ معطوف اپنے معطوف علیہ کے بعد ترتیباً اور کچھ دیر کے بعد واقع ہوا ہے۔اُردو زبان میں اس مفہوم کو ادا کرنے کے لئے ’’پھر‘‘ ’’تب‘‘ ’’بعدازاں‘‘ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔اور بعض اوقات ثُمَّکے آخر میں تا بھی لے آتے ہیں جیسے کہ اس شعر