تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 382

کن صفات کے مالک ہوتے ہیں اور وہ صفات یہ بیان فرمائی ہیں (۱) اللہ تعالیٰ سے جو عہد انہوں نے باندھا ہوا ہے اسے توڑنے والے ہوتے ہیں (۲) جن تعلقات کو اللہ تعالیٰ نے مضبوط کرنے کا حکم دیا ہے وہ ان کو کاٹنے والے ہوتے ہیں (۳) اور زمین میں فساد کرنے والے ہوتے ہیں۔فاسقوں کے عہد توڑنے سے مراد امر اوّل یعنی اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑنے سے مراد اوّل تو توحید کا ترک ہے کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا۔وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى ١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِيْنَ(الاعراف :۱۷۳) یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر رُوح کے اندر ایک ایسا مادہ رکھا ہے کہ گویا وہ زبانِ حال سے اس امر کی شہادت دے رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا رب ہے پھر فرماتا ہے کہ خدا تعالیٰ بھی گویا اپنی صفات کے مخفی ظہور کے ذریعہ سے ان سے کہتا ہے کہ کیا تم اس پر گواہ ہو اور وہ بزبانِ حال کہتی ہیںکہ ہاں! ہم گواہ ہیں۔یہ انسانی فطرت کی ایک لطیف شہادت قرآن کریم نے بیان کی ہے لیکن کچھ لوگ اس فطرتی شہادت کو جو ہر انسان کے نفس میں پائی جاتی ہے ُبھلا کر شرک میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور اس طرح گویا اس عہد کو توڑ دیتے ہیں جو ہر فطرت نے ہوش آتے ہی توحید پر قیام کے متعلق کیا تھا۔دوسری مراد عہد سے وہ عہد ہے جوہر نبی اپنے سے بعد میں آنے والے نبی پر ایمان لانے کے متعلق لیتا ہے۔فرماتا ہے۔وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَاۤ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗ١ؕ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِيْ١ؕ قَالُوْۤا اَقْرَرْنَا١ؕ قَالَ فَاشْهَدُوْا وَ اَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِيْنَ ( آل عمران :۸۲) یعنی ہم نے ہر نبی سے اس کے وقت میں عہد لیا ہے کہ جو کلام اور جو مامور بعد میں میری طرف سے آئے اسے بھی ماننا ہو گا۔پس فاسق وہ ہوتے ہیں جو اس عہد کو بھول جاتے ہیں اور وقت کے مامور کا انکار کر دیتے ہیں۔یَقْطَعُوْنَ مَا اَمَرَ اللّٰہُ کا مطلب اور یہ جو فرمایا کہ وَ يَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ يُّوْصَلَ اس کے یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ کی محبت اور سچائیوں کی محبت ان کے دلوں سے سرد ہو جاتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔بلکہ دنیا کی محبت میں سرشار ہو جاتے ہیں۔اور ان کی تمام توجہ دنیا کی طرف پھر جاتی ہے۔