تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 357

تخت سے مراد لکڑی یا سونے چاندی کا تخت نہیں بلکہ اس سے مراد اس کے جلال کا تخت ہے تو یہی توجیہہ انہو ںنے قرآنی پانی اور دودھ اور شراب کی کیوں نہ کر لی اور کیوں نہ سمجھا کہ اس سے بھی یہی مراد ہے کہ جب مومن خدا تعالیٰ کی خاطر پانیوں سے محروم کئے گئے، ان کے اموال چھین کر انہیں دودھ اور شہد سے محروم کر دیا گیا۔انہوں نے خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے روزے رکھے اور خود اپنے لئے دوددھ اور شہد اور پانی کو حرام کر لیا تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں انہیں رُوحانی دودھ اور روحانی شہد اور روحانی پانی دے گا اور چونکہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اپنے اوپر شراب کا استعمال حرام کر لیا تو اللہ تعالیٰ انہیں محبت کی شراب پلائے گا اور چونکہ وہ خدا کے لئے اپنے گھروں سے نکالے گئے یا انہو ںنے خدا تعالیٰ کے لئے اپنے گھروں کو غریبوں کے ٹھہرنے کی جگہ اور مہمانوں کی آسائش کا مقام بنا دیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں اپنی رحمت کے باغوں میں جگہ دی۔خلاصہ یہ کہ قرآن کریم میں جن باغوں اور نہروں اورپھلوں اور جس دودھ اور شہد اور شراب کا ذکر آتا ہے وہ اس دنیا کے باغوں اور نہرو ںاور پھلوں سے بالکل مختلف ہیں اور وہاں کا دودھ اور شہد اور شراب اس دنیا کے دودھ اور شہد اور شراب سے بالکل مختلف ہے اور قرآن کریم نے ان امور کی خود ایسی تشریح فرما دی ہے کہ اس کے بعد اس امر میں شک کرنا محض تعصّب کا اظہار ہے اور یہ محاورات چونکہ پہلی کتب میں بھی موجود ہیں اس لئے ان آیات میں کوئی ایسی بات نہیں جس کا سمجھنا لوگوں کے لئے مشکل ہو۔اخروی زندگی میں رُوح کے لئے جسم مَیں اس جگہ یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ میرا یہ مطلب نہیں کہ اخروی زندگی ایک ایسی روحانی زندگی ہو گی جو ُکلیّ طور پر جسم سے پاک ہو گی اور جہاں صرف دل کے احساسات پر ہی سب انعامات ختم ہو جائیں گے بلکہ قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے کہ رُوح اپنی ہر حالت میں ایک جسم کی محتاج ہے اور اخروی زندگی میں بھی اسے ایک جسم ملے گا جو اس مادی دنیا سے بالکل مختلف ہو گا۔اخروی زندگی کو سمجھانے کیلئے عالم ِ خواب کا سلسلہ اور اس زندگی کے سمجھانے کے لئےاللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں عالم خواب کا سلسلہ جاری کیا ہے تاکہ انسان اگلے جہان کی زندگی کا کچھ اندازہ کر سکے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر فرما دیا ہے کہ اُخروی زندگی اور عالم خواب کا ایک گہرا جوڑ ہے چنانچہ فرماتا ہے اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا١ۚ فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَ يُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۠(الزمر :۴۳) یعنی کفار اُخروی زندگی اور اس کے عذابو ںکے منکر ہیں حالانکہ اگر غور کریں تو انہیں اس کا ثبوت اپنی زندگیوں میں مل سکتا ہے۔وہ دیکھ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر رُوح کو موت