تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 343
لفظ سے یہ <mark>اس</mark>تدلال نہیں ہو سکتا <mark>اس</mark> امر سے بھی ہو سکتا ہے کہ کفار کا یہ اعتراض کہ قرآن کریم کیوں ایک ہی دفعہ نہیں اُتارا گیا جس آیت میں بیان کیا گیا ہے <mark>اس</mark> کے الفاظ یہ ہیں۔وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً(الفرقان :۳۳) یعنی کفار کہتے ہیں کہ کیوں <mark>اس</mark> پر سارا قرآن ایک ہی دفعہ نہیں اُتارا گیا اور <mark>اس</mark> آیت میں بھی نُزِّلَ ، زَاء کی تضعیف سے <mark>اس</mark>تعمال <mark>ہوا</mark> ہے پس کم سے کم <mark>اس</mark> آیت میں نَزَّلَ (بِتَشْدِیْدِالزَّاءِ) سارے قرآن کے اکٹھا نازل ہونے کے معنوں میں<mark>اس</mark>تعمال <mark>ہوا</mark> ہے ؟پس جب اکٹھا اُتارنے کے لئے بھی تَنْزِیْل کا لفظ <mark>اس</mark>تعمال ہوتا ہے تو <mark>اس</mark> آیت سے یہ <mark>اس</mark>تدلال کرنا کہ <mark>اس</mark> جگہ قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اُتارنے پر اعتراض ہے درست ثابت نہ ہوتا کیونکہ کفار کے مُنہ سے اللہ تعالیٰ نے <mark>اس</mark> اعتراض کو بیان کرتے وقت اُنْزِلَ کا لفظ بیان نہیں کیا بلکہ نُزِّلَ کا لفظ بیان فرمایا ہے۔پس <mark>اس</mark> آیت سے یہ <mark>اس</mark>تدلال درست نہیں معلوم ہوتا لیکن <mark>اس</mark> کے یہ معنے نہیں کہ نَزَّلَ تشدید کے ساتھ کہیں بھی آہستہ آہستہ اُترنے کے معنوں پر دلالت نہیں کرتا۔کیونکہ بعض جگہ پر <mark>اس</mark> لفظ کے بعد مصدر بھی لایا گیا ہے جیسے نَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا کہا گیا ہے (بنی <mark>اس</mark>رائیل :۱۰۷) جس سے یہ غرض پوری ہو گئی ہے اور مصدر کی زیادتی نے وہ معنے پیدا کر دیئے ہیں مگر بہرحال آیت زیر تفسیر میں بار بار اور آہستہ اُترنے پر اعتراض نہیں بلکہ توحید کے مضمون پر اعتراض ہے جو <mark>اس</mark> آیت سے پہلے بیان ہؤا ہے اور مراد یہ ہے کہ توحید کی تعلیم نے دلوں میں قسم قسم کے شک پیدا کر دیئے ہیں۔فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِيْ وَ قُوْدُهَا اور اگر تم نے (ایسا) نہ کیا اور تم ہرگز (ایسا )نہ کر سکو گے تو <mark>اس</mark> آگ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں بچو۔النَّ<mark>اس</mark>ُ وَ الْحِجَارَةُ١ۖۚ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِيْنَ۰۰۲۵ وہ کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔حَلّ لُغَات۔فَاتَّقُوْا۔فَاتَّقُوْا بَابِ اِفْتِعَالسے امر جمع کا صیغہ ہے اور اِتَّـقٰی۔یَتَّـقِیْ کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات <mark>سورۃ</mark> البقرۃ آیت۳۔وَقُوْدُھَا۔اَلْوَقُوْدُ۔مَا تُوْ قَدُ بِہِ النَّارُ مِنَ الْحَطَبِ۔ایندھن جس سے آگ جلائی جاتی ہے۔(اقرب) اَلْـحِـجَارَۃُ۔اَلْـحِـجَارَۃُ اَلْـحَجَرُ کی جمع ہے اور اَلْحَجَرُ کے معنی ہیں اَلْجَوْھَرُالصُّلْبُ پتھر (مفردات) <mark>اس</mark> کی