تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 333
یہ وہ مطالعہ ہے جو اس آیت میں کیا گیا ہے اس میں زب<mark>ان</mark> کی <mark>خوبی</mark> بھی شامل ہے کیونکہ اگر زب<mark>ان</mark> اعلیٰ نہ ہو تو مطلب واضح نہیں ہوتا اور شک پیدا ہوتا ہے پس جب یہ فرمایا اس میں کوئی امر ایسا نہیں جو قلق و اضطراب پیدا کرے تو اس میں یہ دعویٰ بھی آ گیا کہ اس کی زب<mark>ان</mark> بھی نہایت اعلیٰ درجہ کی ہے اور اس کا کلام فصیح و بلیغ ہے۔لیکن اس آیت کے یہ معنے کرنے کہ اس میں صرف اس امر کا مطالبہ ہے کہ قرآن کریم جیسی فصیح و بلیغ عبارت پیش کرو درست نہیں اور سمندر میں سے ایک قطرہ لے کر پیش کرنے والی بات ہے قرآن کریم کا مطالبہ وسیع ہے اور صرف زب<mark>ان</mark> پر مشتمل نہیں اور نہ زب<mark>ان</mark> کا یہاں کوئی ذکر ہے زب<mark>ان</mark> کا ذکر تو لَارَیْبَ فِیْہِ سے ہی نکل سکتا ہے مگر اس میں بھی اور مطالب کا ذکر ہے اور یہ درست نہیں کہ لَارَیْبَ فِیْہِ کے ایک معنی کو لے لیا جائے اور باقی مع<mark>ان</mark>ی کو چھوڑ دیا جائے اور نہ یہ درست ہے کہ صرف لَارَیْبَ فِیْہِ کے حصہ کو لے لیا جائے اور باقی مطالب جن کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے <mark>ان</mark> کو چھوڑ دیا جائے۔خلاصہ یہ کہ قرآن کریم میں کفاّر کے اس اعتراض کا کہ ہمیں تو قرآن کریم کے مضامین سے اور بھی شبہات دین پر پیدا ہونے شروع ہو گئے ہیں اور یا یہ کہ قرآنی مضامین کی وجہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں اور بھی شبہات پیدا ہو گئے ہیں ایسا منہ توڑ جواب دیا ہے کہ نہ اس سے کوئی اس سے پہلے عہدہ بَرا ہو سکا ہے اور نہ آئندہ کوئی ہو سکتا ہے۔باقی رہے اعتراض تو وہ لوگ پہلے بھی کرتے چلے آئے ہیں اور پھر بھی کرتے چلے جائیں گے جب تک <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark>وں میں تقویٰ سے خالی لوگ موجود ہیں اس وقت تک یہ سلسلہ ختم نہیں ہو سکتا۔ہاں ! تعصب سے خالی ہو کر کوئی شخص اس مطالبہ کو پورا کرنے کی کوشش کرے تو اسے اپنے عجز کے اقرار کے سوا کوئی چارہ نہ ہو گا چن<mark>ان</mark>چہ قرآن کریم اگلی آیت میں خود ہی فرماتا ہے کہ تم لوگ اس کی مثل نہ قریب زم<mark>ان</mark>ہ میں نہ آئندہ کسی زم<mark>ان</mark>ہ میں لاسکو گے۔قرآن کریم میں مثل ل<mark>ان</mark>ے کا پ<mark>ان</mark>چ جگہ مطالبہ۔قرآن کریم میں یہ مثل کا مطالبہ پ<mark>ان</mark>چ جگہ ہوا ہے۔اور میرے نزدیک پ<mark>ان</mark>چوں جگہ میں اس کا مفہوم جدا جدا ہے ایک تو اسی آیت میںجس کی تفسیر اوپر بی<mark>ان</mark> کی گئی ہے۔دوم۔سورہ یونس ع ۴ آیت ۳۹میں۔وہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۔سوم۔سورۃ ہود ع ۲آیت ۱۴ میں جہاں فرماتا ہے اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَيٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۔چہارم سورہ بنی اسرائیل ع ۱۰ آیت ۶۹ میں۔وہاں آتا ہے۔قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ