تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 316

کے مثیل ہیں کہ جو ہر سادہ سے سادہ بات کا کوئی غیر معقول سبب نکالنے کا عادی تھا۔آپؑ کے بعد آپ کی برکت سے ہم لوگوں نے بھی وحی الٰہی کا مزہ چکھا ہے اور راقم حروف بھی سینکڑوں بار اس کا تجربہ اور مشاہدہ کر چکا ہے اس مشاہدہ کے بعد مجھ پر ان فلسفیوں کی باتوں کا کیا اثر ہو سکتا ہے سوائے اس کے کہ میں ان کی حالت کو قابلِ رحم سمجھ کر ان کی روحانی دنیا سے ناواقفی پرحیرت کروں۔اگر یہ لوگ ہماری طرف رجوع کریں تو ہم انہیں بتا سکتے ہیں کہ وہ روحانی دنیا کے بادشاہ جو گزشتہ زمانوں میں گزرے ہیں ان کی صداقت مشاہدات اور قوی دلائل سے ہم اب بھی بفضلہ تعالیٰ ثابت کرنے کو تیار ہیں۔غرض جب وحی الٰہی ایک مجرب اور مشاہدہ سے ثابت شدہ امر ہے تو ان عقلی وجوہ کی جو محض ظنیاّت اور قیاسات پر مبنی ہیں کوئی وقعت بھی باقی نہیں رہتی۔ان لوگوں کے خیال کی دوسری بنیاد مسئلہ ارتقاء کے غلط مفہوم پر ہے ان کا یہ خیال کہ دنیا کی ابتدا میں محض آباء یا طبعی مظاہروں یا جانوروں وغیرہ کی پرستش ہوتی تھی بالکل باطل ہے اور تاریخ اور عقل سے غلط ثابت ہوتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ ارتقاء کا تعلق جہاں تک عقل انسانی سے ہے صرف اس حد تک محدود ہے کہ باریک مسائل آہستہ آہستہ دنیا پر کھولے گئے ہیں اور انسانی عقل کی نشوونما کے مطابق انہیں ظاہر کیا گیا ہے۔اس قدر ارتقاء کا یہودی مذہب بھی قائل ہے اور مسیحیت بھی اور اسلام بھی۔لیکن یہ کہ خدا تعالیٰ کے وجود کا بسیط علم بھی انسان کو ابتدا میں نہیں دیا گیا بالکل غیر معقول ہے۔بھلا وہ کونسی روک تھی جو ابتدائی انسان کو ایک پیدا کرنے والے کے وجود کو ماننے میں مانع تھی؟ کوئی بھی عقلی وجہ اس کی معلوم نہیں ہوتی۔پھر ایسے غیر معقول عقیدہ کو کوئی کس طرح تسلیم کر سکتا ہے؟ اِن فلسفیوں کا یہ خیال کہ چونکہ غیر مہذب اقوام میں خدا تعالیٰ کے متعلق جو علم بھی ہے مشرکانہ عقیدوں کے ذریعہ سے ہے اس لئے یہی عقیدہ خدا تعالیٰ کے وجود کی بنیاد ہے۔اس حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے کہ غیر مہذب ہونا ابتدائی ہونے کی علامت نہیں۔اگر وہ تاریخ کو دیکھتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ مختلف اقوام پر تہذیب کے مختلف دور آئے ہیں اور کسی وقت ایک قوم مہذب اور علوم سے آراستہ تھی تو دوسرے وقت میں وہی قوم غیر مہذب اور علوم سے تہی ہو گئی۔کیا انہوں نے یونان اور ایران اور عراق اور مصر کی تاریخوں کو نہیں پڑھا۔کیا ہندوستان اور چین کی تاریخ ان سے پوشیدہ ہے۔کیا قدیم آثار سے جن کو خود انہی کے بھائی بندوں نے دریافت کیا ہے انہیں یہ بات معلوم نہیں ہوئی کہ گذشتہ زمانو ںمیں ان ملکوں میں ایک نہایت اعلیٰ درجہ کی تہذیب پائی جاتی تھی لیکن اب وہ مفقود ہے؟؟ قدیم زمانہ میں یہ ممالک علوم کے گہوارہ تھے مگر بعد میں جہالت کا مرکز ہو گئے۔کیا موجودہ یونان باوجودیورپ