تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 311

کہ ہم نے ان پر بادلوں سے موسلادھار مینہ برسایا۔اسی طرح پھر فرماتا ہے يُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَيْكُمْ مِّدْرَارًا ( نوح :۱۲ و ہود :۳ ۵) کہ اللہ تعالیٰ تم پر موسلا دھار برسنے والا بادل بھیجے گا۔آیت زیر تفسیر میں سَمَآء بمعنے بادل استعمال ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ یہاں دو دفعہ سَمَاء کا لفظ استعمال ہوا ہے اگر دوسری جگہ پر فضاء ہی کے معنے ہوتے تو صرف ضمیر لانی کافی تھی دوبارہ سَمَآء کے لفظ کو لانا بتاتا ہے کہ دوسری جگہ پر اس کے دوسرے معنے ہیں۔خدا تعالیٰ کے ساتھ نِدّ تجویز کرنے کا لطیف ردّ اس امر کو بیان کر دینے کے بعد کہ زمین و آسمان اور ان کے پیدا کردہ تغیرات جیسے بادل وغیرہ کا آنا سب اللہ تعالیٰ ہی کے بنائے ہوئے ہیں۔فرماتا ہے کہ جب دنیا کی ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کی بنائی ہوئی ہے تو تم کو سمجھ لینا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کا کوئی نِدّ نہیں ہے یعنی ایسا کوئی وجود نہیں ہے جو خدا تعالیٰ کا ذات اور صفات میں شریک ہو اور اس کے برابر ہو (نِدّ کے لئے دیکھو حَلِّ لُغَات) اور جب تمام نظامِ عالم ایک قانون کے ماتحت نظر آتا ہے اور کوئی بات بھی اس پر دلالت نہیں کرتی کہ اس کا کوئی حصہ کسی نے پیدا کیا ہے اور کوئی کسی اور نے تو پھر خدا تعالیٰ کے سوا کسی اور کی عبادت کے معنے ہی کیا ہوئے؟ پس تم کو چاہیے کہ ایک خدا کی پرستش کرو اور اس کے فضلوں سے فائدہ اُٹھائو اور اس کے سوا دوسروں کی عبادت کر کے اپنے مستقبل اور حاضر کو خراب نہ کرو۔حصہ آیت وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَمیںا سلام کی برتری کی طرف اشارہ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ سے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ نظامِ عالم میں یکسوئی ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جس سے کوئی عقلمند شخص بھی ناواقف نہیں ہو سکتا اور سب کو اس کا علم اور اقرار ہے کہ کل کائنات ایک قانون کے مطابق چل رہی ہے پس اس امر کو جانتے بوجھتے ہوئے شرک میں مبتلا نہ ہو بلکہ اس علم سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے توحید پر قائم ہو جائو۔ان الفاظ میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جُرم کامل اسی صورت میں ہوتا ہے کہ علم کے ماتحت ہو۔اس سے اسلام کی کیسی برتری ثابت ہوئی ہے کہ وہ صرف عمل پر ہی فیصلہ نہیں کرتا بلکہ اس امر کا بھی لحاظ کرتا ہے کہ وہ عمل کن حالات میں کیا گیا ہے اور کس قسم کے علم کے نتیجہ میں صادر ہوا ہے۔بارش کے ذکر سے الہام الٰہی کے نزول کی طرف اشارہ اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ مادی دنیا کی تکمیل بھی زمینی اور آسمانی قوتوں کے ملنے سے ہوتی ہے۔زمین پر پانی کو لوگ خراب کر دیتے ہیں تو آسمان سے نیا پانی آ کر مصفّٰی پانی مہیا کر دیتا ہے۔ہوا جیسی مصفّٰی چیز کو جب انسان سانس سے گندہ کر دیتا ہے تو وہ اوپر جا کر پھر پاک ہو جاتی ہے۔آنکھ مفید ہے مگر آسمان یعنی سورج کی روشنی کے بغیر وہ کس کام کی؟ غرض اگر زمین