تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 25

عرب کے مشرک بھی اور کسی معبود کے لئے یہ لفظ نہیں بولتے تھے۔اگر ال اور الٰہ یا ال اور لٰہ سے یہ لفظ بنا ہوتا تو جس طرح یہ لفظ اوروں کے لئے بولے جاتے ہیں۔اللہ کا لفظ بھی بولا جاتا مگر عرب ایسا ہر گز نہ کرتے تھے۔(۲) صفات الٰہیہ ہمیشہ اللہ کے لئے بطور صفت کے استعمال ہوتی ہیں لیکن اللہ کا لفظ اور کسی اسم کے لئے بطور صفت استعمال نہیں کیا جاتا اور یہی اصل علامت َعلم کی ہے۔لفظ اللہ کے استعمال کے متعلق بعض شبہات کا ردّ بعض کہتے ہیں کہ سورۃ ابراہیم میں ہے اَلْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ۔اللّٰہُ(ابراہیم:۲،۳) اس میں اللہ بطور صفت استعمال ہوا ہے لیکن یہ درست نہیں۔اس میں صفت کے طور پر نہیں بلکہ عطف بیان کے طور پراستعمال ہوا ہے اور اس موقع پر عَلَم کا استعمال جائز ہے۔جیسے کہتے ہیں ھٰذِہِ الدَّارُ مِلْکٌ لِلْعَالِمِ الْفَاضِلِ زَیْدٍ۔ایسے موقع پر عَلَم کا استعمال اشتباہ کے دُور کرنے کے لئے ہوتا ہے اور آیت کا یہ مطلب ہے کہ عزیز اور حمید سے مراد ہماری اللہ ہے۔بعض کہتے ہیں کہ ھُوَ اللّٰہُ فِیْ السَّمٰوٰتِ وَ فِیْ الْاَرْضِ (الانعام:۴) سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ عَلَم نہیں بلکہ صفاتی نام ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ جب کوئی نام اپنی صفات کے ساتھ مشہور ہو جاتا ہے تو وہ بھی صفاتی رنگ میں استعمال ہونے لگتا ہے جیسے حاتم۔رستم کہ ہیں توخاص اشخاص کے نام لیکن ایک سخاوت اور دوسرا بہادری کے لئے مشہور ہو گیا ہے اور اب حاتم کو سخی کی جگہ اور رستم کو بہادر کی جگہ استعمال کرتے ہیں۔مثلاً فلاں شخص رستم ہے فلاں حاتم ہے۔اسی طرح اللہ کا لفظ چونکہ اپنی صفات کے ساتھ ایک کامل ہستی پر دلالت کرنے لگ گیا اس لئے یُوں کہنا جائز ہو گیا کہ آسمان میں وہی اللہ ہے یعنی تمام صفات میں کامل ذات جس کا نام اللہ ہے ایک ہی ہے اور دوسرا کوئی اس کے نام میں شریک نہیں اور نہ کام میں۔اللہ کا ال اصل ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ لفظ فَعَّال کے وزن پر ہے پس اس پر تنوین آنی چاہیے لیکن استعمال میں تنوین نہیں آئی پس معلوم ہوا کہ ال اس کے اصلی حروف سے نہیں بلکہ ال تعریف کا ہے پس یہ لفظ مرکب ہوا۔اس کا جواب یہ ہے کہ ہر قاعدہ میں استثناء ہوتے ہیں۔اللہ کے لفظ پر تنوین کا نہ آنا بھی ایک استثناء کی صورت ہے۔چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ال پر اگر ندیٰ کا حرف آئے تو اس کے بعد اَیُّہَا کا لفظ بڑھایا جاتا ہے۔مثلاً اگر النّاس کو بلانا ہو تو کہیں گے یٰٓـاَ یُّہَا النَّاسُ لیکن یَا اَیُّہَا اللّٰہ نہیں کہا جاتا جو اس امر کا ثبوت ہے کہ اللّٰہ کا ال اصلی ہے ال تعریف کا نہیں ہے۔بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں۔کہ چونکہ اللہ کے لفظ کا ہمزہ وصلی ہے اس سے معلوم ہوا کہ یہ اصلی ہمزہ نہیں بلکہ