تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 25
عرب کے مشرک بھی اور کسی معبود کے لئے یہ لفظ نہیں بولتے تھے۔اگر ال اور الٰہ یا ال اور لٰہ سے یہ لفظ بنا ہوتا تو جس طرح یہ لفظ اوروں کے لئے بولے جاتے ہیں۔اللہ کا لفظ بھی بولا جاتا مگر عرب ایسا ہر گز نہ کرتے تھے۔(۲) صفات الٰہیہ ہمیشہ اللہ کے لئے بطور صفت کے <mark>اس</mark>تعمال ہوتی ہیں لیکن اللہ کا لفظ اور کسی <mark>اس</mark>م کے لئے بطور صفت <mark>اس</mark>تعمال نہیں کیا جاتا اور یہی اصل علامت َعلم کی ہے۔لفظ اللہ کے <mark>اس</mark>تعمال کے متعلق بعض شبہات کا ردّ بعض کہتے ہیں کہ سورۃ ابراہیم میں ہے اَلْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ۔اللّٰہُ(ابراہیم:۲،۳) <mark>اس</mark> میں اللہ بطور صفت <mark>اس</mark>تعمال ہوا ہے لیکن یہ درست نہیں۔<mark>اس</mark> میں صفت کے طور پر نہیں بلکہ عطف بیان کے طور پر<mark>اس</mark>تعمال ہوا ہے اور <mark>اس</mark> موقع پر عَلَم کا <mark>اس</mark>تعمال جائز ہے۔جیسے کہتے ہیں ھٰذِہِ الدَّارُ مِلْکٌ لِلْعَالِمِ الْفَاضِلِ زَیْدٍ۔ایسے موقع پر عَلَم کا <mark>اس</mark>تعمال اشتباہ کے دُور کرنے کے لئے ہوتا ہے اور <mark>آیت</mark> کا یہ مطلب ہے کہ عزیز اور حمید سے مراد ہماری اللہ ہے۔بعض کہتے ہیں کہ ھُوَ اللّٰہُ فِیْ السَّمٰوٰتِ وَ فِیْ الْاَرْضِ (الانعام:۴) سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ عَلَم نہیں بلکہ صفاتی نام ہے۔<mark>اس</mark> کا جواب یہ ہے کہ جب کوئی نام اپنی صفات کے ساتھ مشہور ہو جاتا ہے تو وہ بھی صفاتی رنگ میں <mark>اس</mark>تعمال ہونے لگتا ہے جیسے حاتم۔رستم کہ ہیں توخاص اشخاص کے نام لیکن ایک سخاوت اور دوسرا بہادری کے لئے مشہور ہو گیا ہے اور اب حاتم کو سخی کی جگہ اور رستم کو بہادر کی جگہ <mark>اس</mark>تعمال کرتے ہیں۔مثلاً فلاں شخص رستم ہے فلاں حاتم ہے۔<mark>اس</mark>ی طرح اللہ کا لفظ چونکہ اپنی صفات کے ساتھ ایک کامل ہستی پر دلالت کرنے لگ گیا <mark>اس</mark> لئے یُوں کہنا جائز ہو گیا کہ آسمان میں وہی اللہ ہے یعنی تمام صفات میں کامل ذات جس کا نام اللہ ہے ایک ہی ہے اور دوسرا کوئی <mark>اس</mark> کے نام میں شریک نہیں اور نہ کام میں۔اللہ کا ال اصل ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ لفظ فَعَّال کے وزن پر ہے پس <mark>اس</mark> پر تنوین آنی چاہیے لیکن <mark>اس</mark>تعمال میں تنوین نہیں آئی پس معلوم ہوا کہ ال <mark>اس</mark> کے اصلی حروف سے نہیں بلکہ ال تعریف کا ہے پس یہ لفظ مرکب ہوا۔<mark>اس</mark> کا جواب یہ ہے کہ ہر قاعدہ میں <mark>اس</mark>تثناء ہوتے ہیں۔اللہ کے لفظ پر تنوین کا نہ آنا بھی ایک <mark>اس</mark>تثناء کی صورت ہے۔چنانچہ <mark>اس</mark> کا ثبوت یہ ہے کہ ال پر اگر ندیٰ کا حرف آئے تو <mark>اس</mark> کے بعد اَیُّہَا کا لفظ بڑھایا جاتا ہے۔مثلاً اگر النّ<mark>اس</mark> کو بلانا ہو تو کہیں گے یٰٓـاَ یُّہَا النَّ<mark>اس</mark>ُ لیکن یَا اَیُّہَا اللّٰہ نہیں کہا جاتا جو <mark>اس</mark> امر کا ثبوت ہے کہ اللّٰہ کا ال اصلی ہے ال تعریف کا نہیں ہے۔بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں۔کہ چونکہ اللہ کے لفظ کا ہمزہ وصلی ہے <mark>اس</mark> سے معلوم ہوا کہ یہ اصلی ہمزہ نہیں بلکہ