تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 302
اسے پیدا کر کے اعلیٰ مدارج تک پہنچانے کا ذ ّمہ لیا ہے آ سکتی ہے پس اُس ہستی سے محبت اور عبادت کا تعلق بہرحال ضروری ہے تا ہدایت خاص سے بھی انسان فائدہ اٹھا سکے۔تَتَّقُوْنَ میں اللہ تعالیٰ سے تعلق توڑ دینے والے امور سے بچنے کے علاوہ بندوں کے تعلقات کو خراب کر دینے والے امور سے بچنے کی طرف اشارہ تَتَّقُوْنَ میں جہاں ایسے امور سے بچنے کے معنے نکلتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور بندے کے تعلق کو بگاڑ دیتے ہیں وہاں اس سے ان امور سے بچنے کا بھی اشارہ پایا جاتا ہے جو بندوں کے باہمی تعلقات سے تعلق رکھتے ہیں۔عبادت الٰہی ایسے امور میں غلطی کرنے سے بھی انسان کو بچاتی ہے۔جو شخص خدا تعالیٰ کو اپنا ربّ سمجھنے لگے ضرور ہے کہ وہ اس کے بندوں سے بھی اچھا تعلق پیدا کرے گا اور پھر یہ بھی لازم ہے کہ وہ بندوں پر ظلم نہیں کرے گا کیونکہ جو شخص اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا بندہ بنا لے گا اس کی نظر اپنی سب ضرورتوں کے لئے خدا تعالیٰ پر ہی پڑے گی خصوصاً جبکہ وہ اس کے رب ہونے پر ایمان رکھتا ہو گا۔اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو اپنی سب ضرورتوں کا کفیل سمجھے گا وہ بندوں کے اموال پر نظر نہیں رکھ سکتا اور نہ اپنی ضرورتوں کے پورا کرنے کے لئے ان کے مالوں میں خیانت کر سکتا ہے نہ ان پر ظلم کر سکتاہے۔پس تَتَّقُوْنَکے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ اگر تم رب کی عبادت اخلاص اور یقین کے ساتھ کرو گے تو آپس کے ظلموں سے بھی بچ جائو گے اور دنیا میں بھی امن قائم ہو گا۔صحابہ کرام اپنے رب کے بندے بن گئے تھے۔دیکھو! ان کی حکومت میں دنیا کو کس قدر امن ملا حتّٰی کہ دشمن تک ان کے نیک سلوک کے معترف ہوئے اور آج تک ابوبکرؓ اور عمرؓ کی حکومت کی یاد لوگوں کے دلوں میں تازہ ہے حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کی حکومت بھی ایسی ہی تھی مگر چونکہ اُن کے بارہ میں اختلاف ہوا ہے میں نے ان کا ذکر نہیں کیا۔قرآن مجید کے حکم يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا سے دنیا کو امن مل سکتا ہے سچ بات یہی ہے کہ دنیا میں امن رب کا بندہ بن جانے کے بغیر قائم نہیں ہو سکتا اگر یورپ خدا کا بندہ بن جاتا تو آج یہ جوُعُ الا َرض کی بیماری اسے لاحق نہ ہوتی۔حصہ آیت خَلَقَکُمْ الخ میں خَلَقَ کے لفظ سے مادہ کے انادی اور ازلی ہونے کا استدلال اور اس کا جواب بعض لوگ خَلَقَ کے لفظ سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآنِ کریم بھی اس امر کا قائل ہے کہ اس دنیا کی پیدائش ایک ایسے مادہ سے ہوئی ہے کہ جو پہلے سے موجود تھا پس قرآنِ کریم بھی مادہ کے انادی یا ازلی ہونے کا قائل ہے۔یہ استنباط ایک وسوسہ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا کیونکہ گو خَلق کے معنے ایک موجود شےکے اندازہ کرنے کے بھی ہوتے ہیں لیکن اس کے معنے جیسا کہحَلِّ لُغَات میں لکھا جا چکا ہے کسی چیز