تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 301

ہے کہ اس کی غرض تمہیں نفع پہنچانا اور تباہی کے راستوں سے بچانا ہے۔تَتَّقُوْنَ کے معنے وضع لغت کے لحاظ سے اِتَّقٰی کا لفظ اِوْتَقٰی سے بنا ہے اور وضع لغت کے لحاظ سے اس کے معنی یہ ہیں کہ کسی کو اپنی ڈھال بنا لیا۔اپنے بچائو کا ذریعہ بنا لیا۔پس تَتَّقُوْنَ کے معنے یہ ہوئے کہ تاتم خدا تعالیٰ کو اپنی ڈھال بنا لو یعنی خدا تعالیٰ کی مدد سے تباہیوں سے بچ جائو اور وہ تمہارا ذمہ وار ہو جائے۔جس طرح دنیوی راہنما انسان کو جنگل یا نادیدہ راستوں سے صحیح او ربے تکلیف نکال کر لے جاتے ہیں اسی طرح خدا تعالیٰ تم کو زندگی کی الجھنوں اور پریشانیوں سے صحیح سلامت بچا کر لے جائے۔ایک اور لطیف بات بھی اس آیت کے متعلق یاد رکھنے کے قابل ہے اور وہ یہ کہ اس میں اُعْبُدُوْا رَبَّكُمْ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اور رب کے معنے جیسا کہ بتایا جا چکا ہے اس ہستی کے ہوتے ہیں جو پیدا کر کے بتدریج ترقی کی طرف لے جائے۔اس صفت کے انتخاب سے اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ ہر انسان کی پیدائش میں اس کی آیندہ ترقی کے لئے ایک بنیاد رکھی گئی ہے تاکہ وہ اس پر چل کر کمال تک پہنچے۔پس جب تک عبادت رَبّ کی نہ ہو جو اُسے اُن مخفی طاقتوں کے مطابق کمال تک پہنچائے مفید نہیں ہو سکتی۔بیشک انسانوں میں مَابِہِ الْاِشْتِرَاکُ بھی ہے اور سب انسان اپنے اندر مشابہ طاقتیں بھی رکھتے ہیں لیکن باوجود اس کے ہر انسان دوسرے سے مختلف ہوتا ہے باپ کا مزاج اَور۔بیٹے کا اَور۔بھائی کا اَور۔کوئی ایک تعلیم سب کے لئے یکساں مفید نہیں ہو سکتی۔اصول تعلیم ایک ہوں گے لیکن جزئیات الگ الگ ہوںگی۔پس ایسے راہنما کی ضرورت ہے جسے ان جزئیات کا علم ہو اور ان کے مطابق ترقی دے کر بلند مراتب تک لے جا سکے پس یہ کام ربّ ہی کر سکتا ہے جو پیدائش سے جوانی تک ایک خاص طرز پر اس فرد کو بڑھاتا لایا ہے۔وہ جانتا ہے کہ زید یا بکر کے مزاج کی افتاد کس طرح پڑ چکی ہے اور اس کے مزاج کا اس کے باپ یا بھائیوں کے مزاج سے کیا اختلاف ہے پس خالی شریعت پر عمل کافی نہیں بلکہ اپنے ربّ سے اخلاص اور محبت کا تعلق بھی ضروری ہے تاکہ وہ خاص راہنمائی کے ذریعہ اسے شریعت کی ان جزئیات کی طرف راہنمائی کرے جو اس کی ذات کے لئے زیادہ مفید ہیں۔بیشک شریعت کہتی ہے نماز پڑھو، زکوٰۃ دو مگر وہ یہ نہیں بتا سکتی کہ اَقل ترین نماز، اَقل ترین صدقہ کے بعد کونسا عمل ایک شخص کی روحانی ترقی کے لئے زیادہ ضروری ہے یہ ہدایت تو ہر شخص کو الگ الگ ہی مل سکتی ہے اور ربّ کی طرف سے ہی مل سکتی ہے۔غرض ہدایت عامہ یعنی شریعت کے مل جانے کے بعد بھی انسان محفوظ نہیں ہوتا کیونکہ اسے اعلیٰ ترقیات کے لئے ہدایت خاصہ کی ضرورت ہے جو بطور القاء کے رب کی طرف سے ہی یعنی اس ہستی کی طرف سے ہی جس نے