تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 300
وہ ہستیاں کس طرح کر سکتی ہیں جو انسان کی خالق نہیں اور اس کی مخفی طاقتوںاور حد بندیوں سے واقف نہیں؟ وہ تو اسے مکمل کرنے کی بجائے توڑ کر رکھ دیں گی۔ہم دیکھتے ہیں کہ جب بھی انسان نے اپنی باگ ڈور غیر اللہ کے سپرد کی ہے نقصان اُٹھایا ہے۔کسی راہنما نے کھلی آزادی دے کر رُوحانی تکمیل کی راہوں سے بالکل دُور پھینک دیا اور کسی راہنما نے انسانی قوتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسا بوجھ لاددیا کہ انسان اس بوجھ تلے دب کر رہ گیا۔کسی نے رہبانیّت کے اختیار اور طیباّت سے اجتناب کرنے کی تعلیم دی تو کسی نے مضر اور مفید میں فرق نہ کرتے ہوئے شریعت کو لعنت قرار دے کر انسان کو تباہی کے گڑھے میں گرا دیا۔اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ایسی تعلیم دی کہ جس کی مدد سے نہ تو وہ اپنی ذمہ واریوں کو بھلا دے اور نہ ایسے بوجھوں تلے دب جائے جو اس کی فطرت کو کچل کر رکھ دیں۔غرض لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ کہہ کر اس طرف توجہ دلائی کہ عبادت کی غرض یہ ہوتی ہے کہ انسان فطرتِ صحیحہ کی راہنمائی میں ترقی کر سکے اور ظاہر ہے کہ فطرت کے مطابق صحیح راہنمائی وہی کر سکتا ہے جو فطرت انسانی کی تمام جزئیات سے واقف ہے اور وہ خالق ہی کی ہستی ہو سکتی ہے نہ کہ کسی اور کی۔لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَسے اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ عبادت کا حکم کسی ایسی غرض کے لئے نہیں جس میں خدا تعالیٰ کا فائدہ ہو بلکہ عبادت کا حکم خود انسان کے فائدہ کے لئے دیا گیا ہے اور اس کی غرض صرف یہ ہے کہ فطرت کے تقاضوں کو صحیح طور پر پورا کر کے انسان کو مکمل بنایا جائے۔اس مضمون سے اُن لوگوں کے شبہات کا بھی ازالہ ہو جاتا ہے جو شریعت کو لعنت قرار دے کر اسے ترک کر چکے ہیں۔انہوں نے شریعت کو لعنت اسی لئے قرار دیا کہ اس کے احکام کو لغو اور بلا حکمت کے سمجھا اور خیال کیا کہ ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ صرف بندوںپر حکومت جتانا چاہتا ہے مگر قرآن کریم میں لکھا ہے کہ ہمارے بتائے ہوئے احکام لغو اور ِبلا ِحکمت نہیں بلکہ انسان کو صحیح راستہ پر چلانے کے لئے ہیں اور اسے افراط و تفریط کی راہوں سے ہٹا کر ان اعمال کی طرف توجہ دلانے کے لئے ہیں جن سے اس کی مخفی قوتیں نشوونما پاتی ہیں اور اس قسم کی تعلیم کو لعنت قرار دینے والا عقلمند نہیں کہلا سکتا۔ایک اندھے کو راستہ کے گڑھے سے ہوشیار کرنے والا کیا لعنت کی تعلیم دیتا ہے؟ کیا کوئی اس اندھے کو کہہ سکتا ہے کہ میاں! اس طرح ہوشیار کرنے والے تم کو لعنت کا طوق پہناتے ہیں۔ایک ڈاکٹر جو مریض کو صحیح پرہیز بتاتا ہے لعنت کا کام نہیں کرتا بلکہ رحمت کا کام کرتا ہے۔پس شریعت کو لعنت قرار دینے والوں کے دعویٰ کی بنیاد صرف اس پر ہے کہ وہ شریعت کے احکام کو بے حکمت سمجھتے ہیں ممکن ہے ان کے دین کی یہی حالت ہو مگر قرآنی تعلیم کی یہ حالت نہیں۔وہ تو یہ دعویٰ کرتی