تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 288

دے رہے ہوتے ہیں اور کچھ گھوڑوں کی پیشانی کے بال پکڑ کر ان کو کھینچ رہے ہوتے ہیں یعنی سب کے سب فوراً فریادی کی فریاد کو پہنچنے کے لئے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں غرض ان آیات میں منافقوں کے دو گروہوں کا ذکر ہے نہ کہ کسی شک کا اظہار ہے۔اَوْ بمعنیٰ تقسیم کے لحاظ سے آیت ھٰذا کی تشریح ان معترضین نے اس پرغور نہیں کیا کہ یہاں ایک فرد کا ذکر نہیں بلکہ ایک گروہ کا ذکر ہے جس کے مختلف افراد مختلف حالتوں کے ہیں ایسے موقع پر اَوْ شک کو ظاہر نہیں کرتا شک اسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب ایک شخص کی ایک ہی حالت کے متعلق دو باتیں بتائی جائیں۔مثلاً یہ کہا جائے کہ زید کھڑا ہے یا بیٹھا ہے لیکن جب قوم کی نسبت کہا جائے کہ وہ کھڑی ہے یا بیٹھی تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ اس میں سے کچھ کھڑے ہیں اور کچھ بیٹھے ہوئے ہیں۔ایک فرد کی نسبت بھی اگر دو مختلف حالتوں کا ذکر ہو تب بھی اَوْ شک کے معنے نہیں دیتا مثلاً ہم بزُدل انسان کی نسبت کہہ سکتے ہیں کہ جب خطرہ پیدا ہو وہ یا بھاگ جاتا ہے یا چھپ جاتا ہے اس کے معنی یہ نہ ہوں گے کہ ہمیں معلوم نہیں کہ وہ کیا کرتا ہے بلکہ یہ معنی ہوں گے کہ کبھی اس کے قلب کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ وہ بھاگ جاتا ہے اور کبھی ایسی کہ وہ چھپ جاتا ہے۔آیت ھٰذا میں بارش و بجلی اور گرج سے مراد خلاصہ یہ کہ ان آیات میں شک کا اظہار نہیں بلکہ یہ بتایا ہے کہ منافقو ںکے ایک گروہ کی حالت یہ ہے کہ جیسے بادل سے بارش نازل ہونے کے وقت جبکہ اس کے ساتھ تاریکی اور گرج اور بجلی ہو تو وہ خوب ڈرتے ہیں اور اگر کبھی بجلی گر پڑے تو پھر تو موت کے ڈر سے کانوںمیں انگلیاں دے کر کھڑے ہو جاتے ہیں حالانکہ بارش تو خدا تعالیٰ کی رحمت کی علامت ہے اور اس کے ساتھ اندھیروں اور گرج اور بجلی کا چمکنا لازمی امر ہے کبھی کبھی اس کے ساتھ بجلی کاِگرنابھی ایک سنت ہے ان باتوں سے گھبرا کر بارش کے فوائد سے محروم ہو جانا بیوقوفی ہے۔مثلاً ایک زمیندار اگر بارش کے وقت بجائے اس کے کہ اپنے کھیت کی مینڈھوں کو ٹھیک کرے اور پانی جمع کرنے کی کوشش کرے کانوں میں انگلیاں ڈال کر گھر بیٹھ جائے تو اسے کوئی شخص عقلمند نہیں کہہ سکتا۔اسی طرح اسلام کا ظہور آسمانی بار ش کی طرح ہے۔اس کے ساتھ بھی اندھیروں اور گرج اور بجلی کا وجود ضروری ہے مومن اس کو سمجھتے ہیں اور اس حالت سے ڈرنے کی بجائے قربانیاں کر کے فائدہ اٹھاتے ہیں۔مگر عملی منافق اس حالت سے ڈر کر اپنے گھروں میں بیٹھ جاتے ہیں اور ان فوائد سے بھی محروم رہ جاتے ہیں جو اسلام کی ظاہری ترقی کے ساتھ وابستہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی بھی حاصل کرتے ہیں پھر فرماتا ہے وَ اللّٰهُ مُحِيْطٌۢ بِالْكٰفِرِيْنَ۔آخر یہ ڈرتے کن سے ہیں؟ کیا کافروں کی ایذاء سے ؟ کافروں کی تباہی کا تو اللہ تعالیٰ فیصلہ کر چکا ہے۔جن کی تباہی کا فیصلہ