تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 278

غرض قرآنی محاورہ کے مطابق آگ کا لفظ الٰہی جلوہ یا الٰہی کلام پر بھی دلالت کرتا ہے۔اور اس محاورہ کے مطابق اس آیت کا یہی مفہوم ہے کہ منافقوں نے خدا کے کلام کی آگ کو اپنے گھروں میں روشن کیا مگر بعد میں اس کے فوائد سے محروم ہو گئے۔آگ کے لفظ کا الٰہی جلوہ یا کلامِ الٰہی کے لئے استعمال کرناکوئی معیوب امر نہیں۔کیونکہ آگ بے شک جلانے والی چیز ہے لیکن محبت کے لئے بھی آگ کا لفظ مستعمل ہے کیونکہ وہ ایک نہ مٹنے والی خواہش کو پیدا کر دیتی ہے۔اسی طرح جو چیز گندے خیالات اور گناہ کی خواہش کو مٹا دے اور بھسم کر دے۔اسے آگ سے تشبیہ دینا بالکل درست اور ایک لطیف تشبیہ ہو گی۔اور جلوۂِ الٰہی اور کلامِ الٰہی کا یہی کام ہے۔پس ان کی اس تاثیر کو مدِّنظر رکھتے ہوئے ان کو آگ سے بھی تشبیہ دی جا سکتی ہے۔جس طرح بعض تاثیرات کے لحاظ سے انہیں پانی سے بھی تشبیہ دی جا سکتی ہے۔اور قرآن کریم نے دی ہے۔آگ سے مراد جنگ آگ عربی کے محاورہ میں جنگ کو بھی کہتے ہیں اس محاورہ کے رو سے اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ منافقوں نے کفار سے منصوبے کر کے جنگ کی آگ بھڑکائی اور خیال کیا کہ اس طرح محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو نقصان پہنچا سکیں گے۔لیکن نتیجہ الٹا نکلا۔ان جنگوں سے اسلام کو اور بھی تقو ّیت پہنچی اور اسلام کی شان اور بھی بڑھ گئی۔اور یہ بجائے فائدہ اٹھانے کے اپنی بینائی کھوبیٹھے یعنی حیران رہ گئے کہ اب کیا کریں کہ نتیجہ تو ہماری توقع کے خلاف نکلا۔آگ کا لفظ ان معنوں میں عرب میں عام طور پر مستعمل ہے۔کہتے ہیں۔خَـمَدَتْ نَارُہٗ اس کی آگ بجھ گئی یعنی لڑائی میں اس کا جتھا شکست کھا گیا۔عربوںمیں آگ کا جنگ سے اس قدر تعلق سمجھا جاتا تھا کہ اگر لڑائی کے میدان میں کسی لشکر کی آگ بجھ جاتی تو وہ اسے اپنی شکست کا شگون سمجھتا تھا۔چنانچہ غزوۂ احزاب کے موقعہ پر ابو سفیان اس لئے میدان سے بھاگ کھڑا ہوا تھا کہ اس کی آگ بجھ گئی تھی۔قرآن کریم نے بھی اس محاورہ کو استعمال فرمایا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ(المائدۃ:۶۵) یعنی جب بھی وہ لڑائی کی آگ جلاتے ہیں اللہ تعالیٰ اسے بجھا دیتا ہے۔یعنی ان کی شکست اور ذ ّلت کے سامان پیدا کر دیتا ہے۔پس اس محاورہ کی روشنی میں اس آیت کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ منافقوں نے لڑائی کی آگ تو اس لئے جلائی تھی کہ اسلام تباہ ہو۔اُلٹے خود تباہ ہو گئے۔ذَھَبَ اللّٰہُ بِنُوْرِھِمْکی تشریح ذَھَبَ اللّٰہُ بِنُوْرِھِمْ کے ایک معنے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ جنگوں کی وجہ سے