تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 264
ہوتا ہے۔جب بھی خدا تعالیٰ کسی قوم کو بڑھانا چاہتا ہے ایسے ہی حالات میں بڑھاتا ہے کہ باوجود اس کے کہ جو قوم کمزور اور بے سامان ہوتی ہے اور وہ اُسے بے دریغ قربانی کا حکم دیتا ہے جو منافقوں اور دشمنوں کی نظر میں ایک َلغو فعل نظر آتا ہے۔کیونکہ وہ قربانی کی قیمت نہیں جانتے۔ہاں! جب کامیابی حاصل ہو جاتی ہے تو ان کی اولاد کہتی ہے کہ یہ کامیابی غیر معمولی نہیں اس کا سبب یہ تھا کہ مومن قربانی کرتے تھے اور ان کے مخالف غافل تھے گویا پہلے ان کے آباء اور رنگ کا اعتراض کرتے ہیں اور اولاد بالکل الٹ قسم کے اعتراض شروع کر دیتی ہے۔چنانچہ اسلام کی ابتدا میں تو یہ اعتراض کیا گیا کہ مسلمان تو بے وقوف ہیں۔اپنے مالوں اور اپنی جانوں کو ضائع کر رہے ہیں اور ایسے طور پر خرچ کر رہے ہیں کہ نتیجہ کچھ نہ نکلے گا یونہی اپنے مذہب کے جھوٹے وعدوں کے دھوکے میں آ گئے ہیں مگر جب اسلام کو غلبہ مل گیا تو اب ان کی اولاد یا ان کے اظلال یہ کہہ رہے ہیں کہ اسلام کی ترقی کوئی معجزانہ ترقی نہ تھی۔عربوں اور ایرانیوں اور رومیوں کے اخلاق تباہ ہو گئے تھے اور ان میں قوم کی خاطر قربانی کرنے کا جذبہ نہ رہا تھا اس لئے مسلمان غالب آگئے۔سچ ہے جب انسان سچائی کو چھوڑتا ہے تو کسی ایک مقام پر کھڑا نہیں ہو سکتا اسے بار بار اپنی جگہ بدلنی پڑتی ہے۔بھلا کوئی سوچے کہ اگر مسلمانوں کے اندر ایسی ہی کوئی غیر معمولی طاقت موجود تھی اور ان کے مدِّمقابل ایسے ہی کمز ور تھے تو اندرونی منافق اور بیرونی دشمن ان کی قربانیوں کو اسراف اور ان کے ارادوں کو جنون کیوں قرار دے رہے تھے؟ باقی رہا یہ کہ بعض اسباب ان کی تائید میں پیدا ہو گئے تو یہ معجزانہ غلبہ کے خلاف نہیں۔اللہ تعالیٰ جب کوئی خبر دیتا ہے تواس کی تائید میں سامان بھی پیدا کر دیتا ہے۔مگر وہ سامان مومنوں کی کوشش کا نتیجہ نہیں ہوتے۔آخر عربوں، ایرانیوں اور رومیوں کو سچی قربانیوں سے مسلمانوں نے تو محروم نہ کیا تھا۔پھر یہ بھی تو دیکھنا چاہیے کہ دونوں فریق کی طاقت کی باہمی نسبت کیا تھی؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عربوں رومیوں اور ایرانیوں سے سچی قربانی کی روح چھین لی۔مگر جس حد تک انہو ںنے طاقت خرچ کی مسلمانوں میں تو اس کے مقابلہ کی بھی ظاہر حالات میں طاقت نہ تھی پھر وہ کیونکر غالب آئے؟ منافقوں کی اس حالت کا کہ وہ کفار کے مقابلہ کو نادانی سمجھتے تھے ایک اور آیت میں بھی بیان کیا گیا ہے فرماتا ہے۔فَتَرَى الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ يُّسَارِعُوْنَ فِيْهِمْ يَقُوْلُوْنَ نَخْشٰۤى اَنْ تُصِيْبَنَا دَآىِٕرَةٌ١ؕ فَعَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّاْتِيَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَيُصْبِحُوْا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوْا فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِيْنَ( المائدة :۵۳) یعنی ان منافقو ںکا حال جن کے دلوں میں بیماری ہے تم دیکھتے ہو کہ کس طرح مخالفینِ اسلام میں بھاگ کر ُگھستے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو اس سے