تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 263
حَلِّ لُغَات میں بتایا جا چکا ہے کہ سَفِـیْـہٌ جس کی جمع سُفَھَآءُ ہے۔سَفَہَ سے نکلا ہے اور اس کے معنے قلتِ عقل کے بھی ہوتے ہیں۔اور بے دریغ اپنے اموال کو لٹ<mark>ان</mark>ے کے بھی ہوتے ہیں۔لَایَعْلَمُوْنَ۔منافقوں کاالسُّفَهَآءُ کا لفظ کہہ کر مومنوں پر بے دریغ مال خرچ کرنے کا الزام قرآن کریم میں بھی یہ محاورہ استعمال ہوتا ہے۔چن<mark>ان</mark>چہ آتا ہے۔وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ (النساء :۶) اپنے مال ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں نہ دو جو <mark>ان</mark> کو خرچ کرنا نہ ج<mark>ان</mark>تے ہوں اور <mark>ان</mark> کو ضائع کر دیں۔منافقوں کا مسلم<mark>ان</mark>وں کو سُفَھَاء کہنا <mark>ان</mark>ہی معنوں میں ہے۔<mark>ان</mark> کا خیال تھا کہ یہ لوگ نہ اپنی ج<mark>ان</mark>وں کی حفاظت کر سکتے ہیں نہ اپنے مالوں کی اور یونہی بے سوچے سمجھے اپنی ج<mark>ان</mark>یں ضائع کر رہے ہیں اور مال لٹا رہے ہیں۔لیکن ہم ہوشیار ہیں۔ہم مسلم<mark>ان</mark>وں کے ساتھ بھی بنا کر رکھتے ہیں اور کفار سے بھی اس طرح ہم دونوں طرف کے خطروں سے محفوظ ہیں۔وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمْ کہنے والے مسلم<mark>ان</mark> ہیں منافقوں کا یہ اعتراض قرآن کریم میں <mark>دوسرے</mark> مقامات پر بھی وضاحت سے بی<mark>ان</mark> ہوا ہے۔چن<mark>ان</mark>چہ آتا ہے کہ منافق اپنے ہم وطنوں سے <mark>کہتے</mark> تھے لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى يَنْفَضُّوْا(المنافقون :۸) یہ لوگ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہیں <mark>ان</mark> پر خواہ مخواہ اپنے مال نہ خرچ کرو تاکہ یہ پراگندہ ہو جائیں اور تم اس وبال سے محفوظ ہو جائو۔اسی طرح آتا ہے اَلَّذِيْنَ يَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِيْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ فِي الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَيَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ(التوبۃ :۷۹) یعنی منافق لوگ اُن پر بھی ہنسی اڑاتے ہیں جو صاحب توفیق ہو کر بڑھ بڑھ کر چندے دیتے ہیں اور <mark>ان</mark> پر بھی جو صاحبِ توفیق نہیں اور جو کچھ تھوڑا سامال <mark>ان</mark> کے پاس ہوتا ہے حاضر کر دیتے ہیں۔گویا <mark>ان</mark> کو دونو ںپر اعتراض تھا۔جو صاحبِ استطاعت تھے <mark>ان</mark>ہیں <mark>کہتے</mark> تھے کہ دیکھو کیسے ریا کار ہیں !اپنے مال شہرت کی خاطر لٹاتے ہیں۔جو غریب تھے <mark>ان</mark> پر ہنستے تھے کہ کیسے بیوقوف ہیں کھ<mark>ان</mark>ے کو ملتا نہیں اور چندے دیئے جاتے ہیں۔ج<mark>ان</mark>وں کے اسراف کے بارہ میں بھی <mark>ان</mark> کا اعتراض تھا۔چن<mark>ان</mark>چہ جنگ کا ذکر اور دشمنوں کے غلبہ اور کثرت کا ذکر کر کے فرماتا ہے کہ اِذْ يَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰٓؤُلَآءِ دِيْنُهُمْ (ال<mark>ان</mark>فال :۵۰) یعنی منافق اور جن کے دلوں میں مرض ہے <mark>کہتے</mark> ہیں کہ <mark>ان</mark> مسلم<mark>ان</mark>وں کو تو <mark>ان</mark> کے دین نے مغرور کر دیا ہے۔یعنی دین میں جو وعدے ترقی کے مذکور ہیں <mark>ان</mark> سے دھوکہ کھا کر اپنی ج<mark>ان</mark>وں کی پرواہ نہیں کرتے اور ج<mark>ان</mark>یں قرب<mark>ان</mark> کرتے چلے جاتے ہیں اور <mark>ان</mark>جام کو نہیں دیکھتے۔منافقوں کا اَلسُّفَھَآئکے الفاظ مومنوں کے متعلق استعمال کر کے <mark>ان</mark> کی بے دریغ قرب<mark>ان</mark>یوں پر طنز کرنا <mark>غرض</mark> سَفِیْہٌ سے مراد منافقوں کی یہ ہے کہ مسلم<mark>ان</mark> اپنی ج<mark>ان</mark>وں اور مالوں کو بے سوچے سمجھے برباد کر رہے ہیں اور ہم اپنی ج<mark>ان</mark>وں کی حفاظت کرتے ہیں اور اپنے مالوں کو بچا رہے ہیں۔یہ اعتراض ہمیشہ بڑھنے والی قوموں پر