تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 263

حَلِّ لُغَات میں بتایا جا چکا ہے کہ سَفِـیْـہٌ جس کی جمع سُفَھَآءُ ہے۔سَفَہَ سے نکلا ہے اور اس کے معنے قلتِ عقل کے بھی ہوتے ہیں۔اور بے دریغ اپنے اموال کو لٹانے کے بھی ہوتے ہیں۔لَایَعْلَمُوْنَ۔منافقوں کاالسُّفَهَآءُ کا لفظ کہہ کر مومنوں پر بے دریغ مال خرچ کرنے کا الزام قرآن کریم میں بھی یہ محاورہ استعمال ہوتا ہے۔چنانچہ آتا ہے۔وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ (النساء :۶) اپنے مال ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں نہ دو جو ان کو خرچ کرنا نہ جانتے ہوں اور ان کو ضائع کر دیں۔منافقوں کا مسلمانوں کو سُفَھَاء کہنا انہی معنوں میں ہے۔ان کا خیال تھا کہ یہ لوگ نہ اپنی جانوں کی حفاظت کر سکتے ہیں نہ اپنے مالوں کی اور یونہی بے سوچے سمجھے اپنی جانیں ضائع کر رہے ہیں اور مال لٹا رہے ہیں۔لیکن ہم ہوشیار ہیں۔ہم مسلمانوں کے ساتھ بھی بنا کر رکھتے ہیں اور کفار سے بھی اس طرح ہم دونوں طرف کے خطروں سے محفوظ ہیں۔وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمْ کہنے والے مسلمان ہیں منافقوں کا یہ اعتراض قرآن کریم میں دوسرے مقامات پر بھی وضاحت سے بیان ہوا ہے۔چنانچہ آتا ہے کہ منافق اپنے ہم وطنوں سے کہتے تھے لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى يَنْفَضُّوْا(المنافقون :۸) یہ لوگ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہیں ان پر خواہ مخواہ اپنے مال نہ خرچ کرو تاکہ یہ پراگندہ ہو جائیں اور تم اس وبال سے محفوظ ہو جائو۔اسی طرح آتا ہے اَلَّذِيْنَ يَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِيْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ فِي الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَيَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ(التوبۃ :۷۹) یعنی منافق لوگ اُن پر بھی ہنسی اڑاتے ہیں جو صاحب توفیق ہو کر بڑھ بڑھ کر چندے دیتے ہیں اور ان پر بھی جو صاحبِ توفیق نہیں اور جو کچھ تھوڑا سامال ان کے پاس ہوتا ہے حاضر کر دیتے ہیں۔گویا ان کو دونو ںپر اعتراض تھا۔جو صاحبِ استطاعت تھے انہیں کہتے تھے کہ دیکھو کیسے ریا کار ہیں !اپنے مال شہرت کی خاطر لٹاتے ہیں۔جو غریب تھے ان پر ہنستے تھے کہ کیسے بیوقوف ہیں کھانے کو ملتا نہیں اور چندے دیئے جاتے ہیں۔جانوں کے اسراف کے بارہ میں بھی ان کا اعتراض تھا۔چنانچہ جنگ کا ذکر اور دشمنوں کے غلبہ اور کثرت کا ذکر کر کے فرماتا ہے کہ اِذْ يَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰٓؤُلَآءِ دِيْنُهُمْ (الانفال :۵۰) یعنی منافق اور جن کے دلوں میں مرض ہے کہتے ہیں کہ ان مسلمانوں کو تو ان کے دین نے مغرور کر دیا ہے۔یعنی دین میں جو وعدے ترقی کے مذکور ہیں ان سے دھوکہ کھا کر اپنی جانوں کی پرواہ نہیں کرتے اور جانیں قربان کرتے چلے جاتے ہیں اور انجام کو نہیں دیکھتے۔منافقوں کا اَلسُّفَھَآئکے الفاظ مومنوں کے متعلق استعمال کر کے ان کی بے دریغ قربانیوں پر طنز کرنا غرض سَفِیْہٌ سے مراد منافقوں کی یہ ہے کہ مسلمان اپنی جانوں اور مالوں کو بے سوچے سمجھے برباد کر رہے ہیں اور ہم اپنی جانوں کی حفاظت کرتے ہیں اور اپنے مالوں کو بچا رہے ہیں۔یہ اعتراض ہمیشہ بڑھنے والی قوموں پر