تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 255
عذاب۔(مفردات) یَکْذِبُوْنَ۔یَکْذِبُوْنَ کَذَبَ سے مضارع جمع غائب کا صیغہ ہے اور کَذَبَ کے معنے ہیں اَخْبَرَ عَنِ الشَّیْءِ بِخَلَافِ مَا ھُوَمَعَ الْعِلْمِ بِہٖ ضِدُّ صَدَقَ۔کسی چیز کے متعلق اپنے علم کے خلاف خبر دینا کذب کہلاتا ہے اور یہ لفظ صدق کے مقابل پر بولا جاتا ہے۔وَسَوَائٌ فِیْہِ الْعَمَدُ وَالْـخَطَاءُ خواہ جان بوجھ کر جھوٹ بولا گیا ہو یا نادانستہ غلط بات بیان کر دی ہو۔دونوں کے لئے کذب کا لفظ بولیں گے۔(اقرب) تفسیر۔اس آیت میں بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَ کا ترجمہ اُن کے جھوٹ بولنے کے سبب سے کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ مَا مصدریہ ہے اور اپنے بعد کے فعل کے معنٰی کو مصدری معنٰی میں تبدیل کر دیتا ہے۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ ان کا فطرتِ صحیحہ کے مطابق کام نہ کرنا بتاتا ہے کہ ان کے دل مریض ہیں کیونکہ اگر دل میں مرض نہ ہوتا تو کم سے کم یہ ان باتو ںکو تو محسوس کرتے جو فطرتِ صحیحہ سے پیدا ہوتی ہیں جس طرح صفراء کی زیادتی سے زبان کا مزہ خراب ہو جاتا ہے اور میٹھا بھی کڑوا معلوم دیتا ہے اسی طرح جن کے دل مریض ہوں وہ اپنی فطرت کی آواز کو صحیح طور پر نہیں سن سکتے۔اس آیت میں بیماری سے مراد نفاق کی بیماری ہے پہلے رکوع کے شروع میں روحانی طور پر تندرست لوگوں کا ذکر تھا پھر کفر کے بیمارو ںکا ذکر ہوا اب اس آیت میں نفاق کی بیماری کا ذکر کیا گیا ہے۔منافق کی علامات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نفاق کی بیماری کی مندرجہ ذیل علامات بتائی ہیں اِذَا حَدَّ ثَ کَذَبَ وَ اِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَ اِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ وَ اِذَا عَاھَدَ غَدَرَ وَ اِذَا خَاصَمَ فَـجَــرَ (بخاری کتاب المظالم باب اذا خاصم فجر و کتاب الشہادات باب من امر بانجاز الوعد) یعنی جب منافق بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے او رجب وعدہ کرتا ہے تو پورا نہیں کرتا اور جب اس کے پاس کوئی امانت رکھائیں تو وہ خیانت کرتا ہے اور جب معاہدہ کرے تو اُسے توڑ دیتا ہے اور جب جھگڑا ہو تو گالیوں پر اُتر آتا ہے۔یہ علامات منافقت کا لازمہ ہیں کیونکہ منافق اپنے نفاق کو چھپانا چاہتا ہے اس کا ذریعہ وہ یہی سمجھتا ہے کہ اگر اس پر کوئی الزام لگائے اور اس کے عیب کو ظاہر کرے تو وہ جھوٹ بولے اور اس سے لڑ پڑے اور گالیوں پر اُتر آئے تاکہ لوگوں کی توجہ دوسری طرف پھر جائے۔اسی طرح اُسے جھوٹ بولنے کی بھی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس کے بغیر وہ اپنے اند رُونہ کو چھپا نہیں سکتا۔وعدہ خلافی اور عہد کو توڑنا بھی اس کے خواص میں ہونا لازمی ہے کیونکہ منافق وہی ہوتا ہے جو ایک قوم سے بظاہر تعلق رکھ کر دراصل اس سے بگاڑ رکھے۔امانت میں خیانت بھی اس کا ضروری خاصہ ہوتا ہے