تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 254

کر کے کرنی چاہی اسی کے نتیجہ میں غزوۂ تبوک کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جانا پڑا۔آخر اس میں بھی ان کو مایوسی ہوئی اور شاید اسی صدمہ سے عبداللہ بن ابی بن سلول تبوک کے واقعہ کے دو ماہ بعد مر گیا اور اس پارٹی کا شیرازہ بکھر گیا اور کچھ لوگ تو سچے دل سے مسلمانوں میں شامل ہو گئے اور باقی گمنامی میں ہلاک ہو گئے۔فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ١ۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ ان کے دلوں میں ایک بیماری تھی پھر اللہ نے ان کی بیماری کو (اور بھی) بڑھا دیا۔اور انہیں ان کے جھوٹ بولنے کے اَلِيْمٌۢ١ۙ۬ بِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ۰۰۱۱ سبب سے (ایک) دردناک عذاب پہنچ رہا ہے۔حَلّ لُغَات۔قُلُوْ بُھُمْ۔قُلُوْبٌ ، قَلْبٌکی جمع ہے اور اس کی تشریح کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ ہذاآیت نمبر ۸۔مَرَضٌ۔اَلْمَرَضُ کُلُّ مَاخَرَجَ بِا لْاِنْسَانِ عَنْ حَدِّ الصِّحَۃِ مِنْ عِلَّۃٍ وَّنِفَاقٍ وَّشَکٍّ وَّظُلْمَۃٍ وَّنُقْصَانٍ وَّ تَقْصِیْرٍ فِیْ اَمرٍ۔یعنی ہر وہ امر جو انسان کو حدِّ صحت سے نکال دے خواہ وہ بیماری ہو یا نفاق یا شک یا فساد یا ظلمت یا کسی چیز میں کمی اور کوتاہی ہو۔وہ مرض کہلاتا ہے (اقرب) مفردات میں مرض کے معنے یہ کئے گئے ہیں کہ ہر وہ چیز جو انسان کو صحت کی حد سے باہر نکال دے۔اور اس کی دو اقسام ہیں۔اوّل جسمانی مرض۔دوسرے جملہ برُی عادات جیسے جہالت۔بزُدلی۔بخل۔نفاق وغیرہ اور نفاق اور کفر اور ایسی ہی اور برُی باتوں کو مرض کے ساتھ اس واسطے تشبیہ دی جاتی ہے (۱) کہ جس طرح ظاہری مرض بدن کو پوری طرح سے کام کرنے سے روک دیتا ہے اسی طرح کفر اور نفاق اور دیگر رذائل، فضائل کو پانے سے روک دیتے ہیں (۲) یا اس لئے کہ جو ایسی باتوں کا شکار ہو اُسے اُخروی زندگی حاصل نہیں ہو سکتی (۳) یا جس طرح مریض آدمی کا بدن مضر اشیاء کی طرف مائل ہوتا ہے اسی طرح ایسی باتوں میں پھنسے ہوئے انسان کا َمیلان اعتقادات ردیہّ کی طرف ہوتا ہے اور یہ سب اشیاء مرض کی صورت میں شمار کی جاتی ہیں۔تو گویا اس شخص کو جو ان باتوں میں گرفتار ہو مریض قرار دیا گیا ہے۔(مفردات) عَذَابٌ۔عَذَابٌ کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ ہذاآیت نمبر ۸۔اَلِیْمٌ۔اَلِیْمٌ کے معنے ہیں اَلْمُوْجِعُ۔دکھ دینے والا (اقرب) عَذَابٌ اَلِیْمٌ اَیْ مُؤْلِمٌ۔یعنی تکلیف دِہ