تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 241

کے معنے ہیں اُسے دھوکا دیا اور ایسے ایسے طریقوں سے تکلیف پہنچانی چاہی جن سے وہ بے خبر تھا وَ فِی الْکُلِّیَّاتِ یُقَالُ خَادَعَ اِذَا لَمْ یَبْلُغْ مُرَادَہٗ وَخَدَعَ اِذَا بَلَغَ مُرَادَہٗ۔اور کُلِّیَّات (ابی البقاء) میں ہے کہ جب دھوکا دینے والا کامیاب ہو جائے تو خَدَعَ کا لفظ (مجرّد) استعمال کرتے ہیں۔اور اپنی کوشش میں ناکام رہے تو خَادَعَ کا لفظ بولتے ہیں۔خَادَعَہٗ کے ایک معنے تَرَکَہٗ یعنی چھوڑ دینے کے ہیں۔اور خَادَعَ الْعَیْنَ کے معنے شَکَّکَھَا فِیْمَا تَرٰی۔آنکھ پوری طرح دیکھ نہ سکی اور کسی چیز کی اصلیت میں شک پڑ گیا۔وَخَادَعَہٗ : کَاسَدَہٗ۔خَادَعَ کے معنی گھاٹا دینے کے بھی ہیں نیز مفردات میں ہے اَلْخِدَاعُ اِنْزَالُ الْغَیْرِ عَمَّا ھُوَ بِصَدَدِہٖ بِاَمْرٍیُبْدِ یْہِ عَلٰی خِلَافِ مَایُخْفِیْہِ کسی کو اس کے اصل مقصود سے جس کے وہ درپے ہو ایسے طریق سے ہٹا دینا کہ دل میں کچھ اور ہو اور ظاہر میں کچھ اور۔خِدَاع کہلاتا ہے۔لِسَانُ الْعَرب میں ہے اَلْخَدْعُ اِظْھَارُ خِلَافِ مَاتُخْفِیْہِ جس بات کو پوشیدہ رکھا گیا ہے اس کے خلاف بات کا اظہار کرنا خَدَعَ کہلاتا ہے۔وَ جَازَ یُفَاعِلُ لِغَیْرِ اثْنَیْنِ لِاَنَّ الْمِثَالَ یَقَعُ کَثِیْرًا فِی اللُّغَۃِ لِلْوَاحِدِ نَحْوَعَاقَبْتُ اللِّصَّ اور خَادَعَ باب مفاعلہ ہے جس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ دونوں فریق نے بالمقابل ویسا ہی کام کیا لیکن بعض اوقات اس طرح بھی استعمال ہوتا ہے کہ اس سے صرف ایک شخص کے فعل پر دلالت ہوتی ہے جیسے کہتے ہیں عَاقَبْتُ اللِّصَّ کہ میں نے چور کو سزا دی حالانکہ سزا صرف حاکم چور کو دیتا ہے۔چور حاکم کو سزا نہیں دیتا۔وَالْعَرَبُ تَقُوْلُ خَادَعْتُ فُـلَانًا اِذَا کُنْتَ تَرُوْمُ خَدْعَہٗ۔اور خَادَعَ عرب ان معنوںمیں بھی استعمال کرتے ہیں جبکہ کوئی کسی کو دھوکا دینے کا قصد کرے خواہ دوسرا شخص دھوکے میں آئے نہیں۔تاج العروس میں ہے کہ خَدَعَ کے ایک معنے روک لینے یا روک دینے کے بھی ہیں چنانچہ جب کہتے ہیں کَانَ فُـلَانًا کَرِیْمًا ثُمَّ خَدَعَ تو اس کے معنے ہوتے ہیں اَمْسَکَ وَمَنَعَ کہ فلاں شخص بہت عطا کیا کرتا تھا پھر اس نے اپنے مال کو روک لیا اور اپنے نفس کو اس طرح خرچ کرنے سے باز رکھا۔پھر ایک اور معنے کرتے ہوئے لکھا ہے سُوْقٌ خَادِعَۃٌ۔اَیْ مُخْتَلِفَۃٌ مُتَلَوِّنَۃٌ تَقُوْمُ تَارَۃً وَتَکْسِدُ اُخْرٰی کہ جب کہیں بازار خَادِع ہے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ کبھی بھائو بڑھ جاتا ہے کبھی گھٹ جاتا ہے۔نیز اقرب میں ہے کہ جب کہیں خَادَعَ الْحَمْدَ تو اس کے معنے تَرَکَہٗ کے ہوتے ہیں کہ اس نے حمد کو چھوڑ دیا۔پس يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ کے معنے یہ ہوں گے (۱) کہ وہ اللہ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ دھوکا نہیں کھاتا۔(۲) جو اُن کے دلوں میں بات ہے اس کے خلاف اظہار کر کے شک میں ڈالنا چاہتے ہیں (۳) وہ خدا کے دین کے معاملہ میں فساد کرتے ہیں (۴) وہ اللہ کو روکتے ہیں یعنی دین کی اشاعت میں روکیں ڈالتے ہیں (۵) اللہ تعالیٰ سے مضطرب والا معاملہ کرتے ہیں۔کبھی ٹھیک ہو جاتے ہیں اور کبھی بگڑ جاتے ہیں۔