تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 240
بنانے کے یہی معنے ہیں کہ گو تیرا دل اور دماغ اسلام پر تسلیّ نہیں پاتا لیکن تو ظاہر میں کہہ دے کہ میں مسلمان ہوں۔اب ظاہر ہے کہ جو مذہب ایسی مذہبی تبدیلی کو جائز بلکہ پسند کرے گا وہ لازماً منافق کو اپنی جماعت کا جزو سمجھے گا اور اُسے کبھی خارج نہیں کر سکتا۔کیونکہ منافقت کے نقص کو جانتے ہوئے اُس نے جبراً ایک ایسے شخص کو اپنے مذہب میں داخل کیا ہو گا جو اس کا قائل نہ تھا لیکن قرآن کریم تو جیسا کہ اوپر کی آیات میں بتایا گیا ہے سختی سے ایسے لوگوں کو ملامت کرتا ہے اور ان کی نسبت اعلان کرتا ہے کہ وہ مومن نہیں ہیں اور یہ امر ظاہر ہے کہ جو مذہب منافقوں کو اپنے اندر شامل کرنے کے لئے تیار نہیں اور صرف دل کی تسلی کے بعد درست عقیدہ رکھنے والے کو اپنا جزو قرار دیتا ہے وہ زبردستی اور تلوار سے کسی شخص کو نہ اپنے اندر شامل کر سکتا ہے نہ اُسے جائز قرار دے سکتا ہے چنانچہ قرآن واضح الفاظ میں فرماتا ہے۔اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ (الحجرات :۱۶) یعنی مومن صرف وہی ہیں جو اللہ اور رسول پر ایمان لائیں اور اُن کے دل میں بعد میں بھی کوئی شبہ پیدا نہ ہوا ہو اور وہ اپنے مالو ںاور جانوں سے اللہ تعالیٰ کے دین کے لئے ہر قسم کی قربانیاں بھی کریں اور یہی لوگ سچے مومن ہیں۔پس اسلام کے نزدیک مومن ہونے کے لئے دلی یقین شرط لازم ہے۔اور جو مذہب دلی یقین کو شرط ایمان قرار دے وہ کسی صورت میں زبردستی اور جبراً تبدیلی ٔ مذہب کی اجازت نہیں دے سکتا۔يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا١ۚ وَ مَا يَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ وہ اللہ کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں دھوکہ دینا چاہتے ہیں مگر (واقعہ میں )اپنے سوا کسی کو اَنْفُسَهُمْ وَ مَا يَشْعُرُوْنَؕ۰۰۱۰ دھوکہ نہیں دیتےاور وہ سمجھتے نہیں۔حَلّ لُغَات۔یُخَادِعُوْنَ۔یُخَادِعُوْنَ خَادَعَ سے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے۔خَادَعَ خَدَعَ سے رُباعی مزید فیہ ہے اور خَدَعَ کے اصل لغوی معنے فساد کے ہیں چنانچہ تاج العروس میں ہے خَدَعَ الشَّیْءُ خَدْعًا: فَسَدَ کہ جب خَدَعَ الشَّیْءُ کہیں تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ اس چیز میں فساد پیدا ہو گیا۔اقرب میں اس لفظ کی تشریح میں لکھا ہے ’’خَدَعَہٗ۔خَتَلَہٗ وَ اَ رَادَ بِہِ الْمَکْرُوْہَ مِنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُہٗ ‘‘ کہ خَدَعَ