تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 239

طرف اشارہ کرنے کےلئے <mark>اس</mark>تعمال ہوا ہے ورنہ یا تو قرآن کریم کفاّر کا لفظ <mark>اس</mark>تعمال کر کے یا صرف ضمیر کے <mark>اس</mark>تعمال سے یا ملکوں یا قوموں کا نام بیان کر کے مخالفین صداقت کا ذکر کرتا ہے پس <mark>اس</mark> <mark>جگہ</mark> وَمِنَ النَّ<mark>اس</mark>ِ کہہ کر ایک لطیف طنز سے انہیں نیکی کی طرف توجہ دلائی ہے کہ انسان اور حیوان میں یہی فرق ہے کہ حیوان ایک مقرر ر<mark>اس</mark>تہ پر چلتا جاتا ہے اور انسان سمجھ کر کام کرتا ہے سو انسانیت کے جامہ کی تم کو <mark>اس</mark> قدر تو عز ّت ہونی چاہیے تھی کہ جس امر کو سچا سمجھتے تھے <mark>اس</mark> پر کاربند ہوتے اور اگر تمہاری قوم مسلمان ہو بھی گئی تھی لیکن تم خود <mark>اس</mark>لام کو برُا سمجھتے تھے تو بھیڑوں کی طرح ان کے پیچھے نہ چلتے بلکہ جو تمہارا عقیدہ خلافِ <mark>اس</mark>لام تھا <mark>اس</mark> پر قائم رہتے۔وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ کہہ کر<mark>اس</mark> بات پر زور دیا ہے کہ ان کے اندر کوئی شائبہ بھی ایمان کا نہیں۔مَ<mark>اس</mark>ے نفی کر کے پھر بعد میں باء کا <mark>اس</mark>تعمال عربی میں زور پیدا کرنے کے لئے ہوتا ہے اور اُردو میں <mark>اس</mark> کا صحیح ترجمہ ’’ہرگز‘‘ کی زیادتی سے ہوسکتا ہے یعنی <mark>اس</mark> جملہ کا یہ ترجمہ نہیں کہ وہ مومن نہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ ہر گز مومن نہیں۔اگر صرف عدمِ ایمان کا اظہار کرنا ہوتا تو <mark>اس</mark> مضمون کو دوسری ترکیب سے بیان کیا جاتا۔مثلاً کہا جاتا کہ وَھُمْ مُنَافِقُوْنَ۔<mark>اس</mark> قسم کے منافقوں کا جو دل سے تو کافر ہوں لیکن منہ سے مومن بنتے ہوں قرآن کریم میں متعدد بار ذکر آیا ہے۔مثلاً فرماتا ہے۔وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَ هُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا يَكْتُمُوْنَ (المائدة : ۶۲)یعنی جب یہ منافق تمہارے پ<mark>اس</mark> آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو ایمان لا چکے ہیں حالانکہ وہ جب تمہارے پ<mark>اس</mark> آئے تھے تب بھی کافر تھے اور جب تمہارے پ<mark>اس</mark> سے اٹھ کر گئے تب بھی کافر تھے اور جو کچھ وہ دلوں میں چھپاتے ہیں اللہ تعالیٰ <mark>اس</mark>ے خوب جانتا ہے <mark>اس</mark>ی طرح قرآن کریم میں آتا ہے۔قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ(المائدة : ۴۲) یعنی یہ منافق لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں لیکن ان کے دل مومن نہیں۔<mark>اس</mark>ی طرح فرماتا ہے۔يَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَيْسَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ (آل عمران : ۱۶۸) وہ اپنے مونہوں سے وہ کچھ کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔مذہب <mark>اس</mark>لام پر جبر سے مسلمان کرنے کے الزام کا ردّ مندرجہ بالا آیات اور آیت زیر تفسیر میں ان لوگوں کے خیالات کی زبردست تردید ہوتی ہے کہ جو کہتے ہیں کہ <mark>اس</mark>لام نے لوگو ںکو زبردستی مسلمان کرنے کا حکم دیا ہے۔<mark>اس</mark> غلطی میں بعض مسلمان بھی پھنسے ہوئے ہیں اور دشمنانِ <mark>اس</mark>لام نے تو <mark>اس</mark> غلط عقیدہ کو <mark>اس</mark>لام کی طرف منسوب کر کے <mark>اس</mark> پر <mark>اعتراض</mark> کرنا ایک مشغلہ بنا رکھا ہے حالانکہ اگر یہ دھوکا خوردہ مسلمان اور وہ دشمنانِ <mark>اس</mark>لام <mark>اس</mark>ی آیت پر غور کرتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ <mark>اس</mark>لام جبر کے سر<mark>اس</mark>ر خلاف ہے کیونکہ جبر منافقت پیدا کرتا ہے اورجبراً کسی کو مسلمان