تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 232

وَ لَهُمْ عَذَابٌمیں عذاب سے مراد وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ میں جس بڑے عذاب کی خبر دی گئی ہے اس سے صرف بعد الموت کی جہنم کی سزا ہی مراد نہیں بلکہ سب سے زیادہ اس میں خدا تعالیٰ کی دوری کا ذکر ہے۔عذاب کے معنے حَلِّ لُغَات میں بتائے جا چکے ہیں۔کہ روکنے کے بھی ہوتے ہیں۔پس عذاب سے مراد اس جگہ یہ ہے کہ مومن تو خدا تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہدایت پر سوار ہو کر اس تک پہنچ جائیں گے مگر یہ لوگ خدا تعالیٰ کے دیدار سے روک دیئے جائیں گے اور اس سے بڑا عذاب اور کیا ہو سکتا ہے؟ اس کے علاوہ اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جو لوگ دل۔کان اور آنکھوں کے استعمال کو ترک کر دیتے ہیں وہ دنیا کے ہر کام میں بھی ذلت اور دُکھ پاتے ہیں اور عذاب میں مبتلا رہتے ہیں۔آیت ھٰذا میں کان کو آنکھ پر مقدم کرنے کی وجہ اس آیت کے متعلق یہ لطیفہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اس میں دل کے بعد کان کا ذکر ہے اور اُس کے بعد آنکھ کا۔اور قرآن کریم میں جہاں بھی اس قسم کا ذکر آیا ہے کان کو آنکھ پر مقدم کیا گیا ہے۔اس کی ایک حکمت تو پہلے بیان ہو چکی ہے دوسری حکمت یہ ہے کہ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کے کان پہلے کام کرنے لگتے ہیں اور آنکھیں بعد میں۔چنانچہ بعض جانوروں میں تو آنکھیں کئی دن تک بند رہتی ہیں اور شروع میں کان ہی سے وہ کام لیتے ہیں۔آیت ھٰذا میںآنکھوں کے لئے جمع اور کانوں کے لئے مفرد لفظ رکھنے کی وجہ اس آیت کے بارہ میں ایک سوال یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دل اور آنکھوں کو تو جمع بیان کیا اور کانو ںکے لئے مفرد کا لفظ رکھا ہے اس میں کیا حکمت ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دلوں اور آنکھوں کا فعل ہر شخص کا ُجداگانہ ہوتا ہے۔دلوں کی طاقتوں کا اس قدر فرق ہوتا ہے کہ کوئی تَحْتَ الثَّرٰی میں ہوتا ہے او رکوـئی افلاک پر۔اسی طرح آنکھوں کے فعل سے اس جگہ معجزات اور نشانوں کو دیکھنا مراد ہے اس کا اندازہ بھی ہر شخص الگ الگ لگاتا ہے۔اور اس طرح گویا مختلف آنکھوں سے ان کو دیکھا جاتا ہے مگر سنی جانے والی شئے ایک معیّن چیز ہے یعنی قرآن کریم۔وہ معیّن الفاظ میں سب کے سامنے پڑھا جاتا تھا۔پس سوچنے میں گو سب مختلف تھے اور معجزات کا نظارہ کرنے میں بھی مختلف تھے مگر سننے میں مختلف نہ تھے کیونکہ ایک ہی کلام سنتے تھے پس سننے کے لئے مفرد کا لفظ استعمال کیا کہ گویا سب ایک ہی کان سے سنتے تھے۔ایک سوال اس آیت کے بارہ میں یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ دلوں اور کان کےلئے تو مہر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو زیادہ سخت ہے لیکن آنکھوں کےلئے پردہ کا لفظ استعمال کیا ہے جو ہٹ بھی سکتا ہے لیکن سورۃ نحل ع ۱۴ میں فرماتا ہے طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ سَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ(النحل:۱۰۹)۔یعنی اللہ تعالیٰ نےان کے