تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 228
سن کر اس کا دل فیصلہ نہ کر سکے تو وہ خدا تعالیٰ کی قدرت کے جلوے اور نظارے دیکھ کر م<mark>ان</mark> سکتا ہے کہ وہ کس کی تائید میں ہیں اور اگر وہ نہ خود سوچے اور نہ علم کی باتوں کو سنے اور نہ خدا تعالیٰ کے نش<mark>ان</mark>ات کو دیکھے تو اس کا <mark>ان</mark>جام اس کے سوا کیا ہو گا کہ وہ دکھوں میں پڑ جائے۔اللہ تعالیٰ نے اس جگہ <mark>ان</mark> لوگوں کو <mark>ان</mark> تینوں باتوں کی طرف متوجہ کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ہم نے <mark>ان</mark>ہیں ایسے دل دیئے تھے جو حق و باطل میں تمیز کر سکتے تھے۔اگر یہ قوت فکریہ سے کام لیتے تو اسلامی صداقتوں کا چشمہ <mark>ان</mark> کے دلوں سے ہی پھوٹ پڑتا اور یہ اسلام کی دعوت کو سنتے ہی اسے م<mark>ان</mark> لیتے۔اگر دلوں سے <mark>ان</mark>ہوں نے فائدہ نہ اٹھایا تھا تو <mark>ان</mark> دلائل کو سنتے جو اسلام نے پیش کئے ہیں۔اس طرح بھی <mark>ان</mark> کو <mark>ہدایت</mark> مل سکتی تھی۔اگر ک<mark>ان</mark>و ںسے سن کر اسلام کی صداقت کا فیصلہ نہ کر سکے تھے تو یہ خدا تعالیٰ کے فعل کو ہی دیکھتے کہ خدا تعالیٰ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم سے کیا معاملہ کر رہا ہے مگر <mark>ان</mark>ہوں نے یہ بھی نہ کیا۔پس جب سب دروازے <mark>ان</mark>ہوں نے اپنے لئے خود بند کر لئے تو اب <mark>ان</mark>ہیں <mark>ہدایت</mark> نصیب ہو تو کیسے ہو؟ <mark>ان</mark> تینوں طاقتو ں کو استعمال نہ کرنے کی وجہ سے اب تو <mark>ان</mark> کی وہ قوتیں ہی ضائع ہو گئی ہیں۔مخالفین اسلام کا آیت خَتَمَ اللّٰهُ الخ سے غلط استدلال اور اس کا جواب اس آیت کا یہ مطلب نہیں جیسا کہ مخالفین ِ اسلام نے اس سے نتیجہ نکالا ہے کہ خدا تعالیٰ جبراً کفار کے دلوںپر اور ک<mark>ان</mark>وں پر مہر لگا دیتا ہے اور <mark>ان</mark> کی آنکھو ںپر پردے ڈال دیتا ہے یہ تو ظلم ہے اور قرآن کریم خدا تعالیٰ سے ظلم کی نفی فرماتا ہے جیسے کہ فرمایا۔اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ (النساء :۴۱) یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ایک ذرّہ بھر بھی ظلم نہیں کرتا۔اور فرمایا اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْـًٔا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ(یونس :۴۵) یعنی اللہ تعالیٰ کی ش<mark>ان</mark> تو ایسی ہے کہ وہ لوگوںپر کچھ بھی ظلم نہیں کرتا۔ہاں !لوگ اپنی ج<mark>ان</mark>وں پر آپ ہی ظلم کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ جبراً کفار کے دلوں پر اور ک<mark>ان</mark>وں پر مہر نہیں لگاتا <mark>دوسرے</mark> اگر <mark>ان</mark> معنوں کو تسلیم کیا جائے تو ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ خود <mark>بعض</mark> بندوں کے لئے کفر کو پسند کرتا ہے حال<mark>ان</mark>کہ قرآن کریم میں ہے۔وَ لَا يَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ (الزمر:۸) کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے کفر کو ناپسند کرتا ہے۔اور فرمایا۔وَ كَرَّهَ اِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْيَ<mark>ان</mark>َ (الحجرات :۸) یعنی کفر اور خود سری اور نافرم<mark>ان</mark>ی سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نفرت دلا دی ہے۔تیسرے <mark>ان</mark> معنوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے۔کہ اللہ تعالیٰ جبر سے <mark>بعض</mark> لوگوں سے کفر کرواتا ہے لیکن قرآن کریم