تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 227
محروم کر دے۔تفسیر۔اس آیت میں ان کفار کا انجام بتایا ہے کہ جن میں مذکورہ بالا آیات والی صفت پائی جاتی ہے نہ کہ ہر کافر کا۔یہ طبعی قاعدہ ہے کہ جو عضو انسان استعمال نہیں کرتا وہ بے کار ہو جاتا ہے۔بعض ہندو سادھو اپنا ہاتھ کھڑا رکھ کر سکھا دیتے ہیں۔اسی طرح اگر آنکھ سے کام نہ لیا جائے تو بالآخر اس کی بینائی جاتی رہتی ہے۔اور اگر کانوں سے کام نہ لیا جائے تو شنوائی مفقود ہو جاتی ہے۔اور اگر زبان کو بند رکھا جائے تو گویائی جاتی رہتی ہے۔یہی حال باطنی ِحسوّں کا ہے ان سے بھی اگر کام نہ لیا جائے تو وہ بھی کچھ عرصہ کے بعد معطّل ہو جاتی ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ چونکہ یہ کفار قلوب کی نظر سے کام نہیں لیتے رہے اس لئے ان کے قلوب کی بینائی جاتی رہی ہے اور وہ مرُدہ دل ہو گئے ہیں۔اور چونکہ باوجود کان رکھنے کے وہ ہماری باتیں نہیں سنتے رہے اور باوجود آنکھیں رکھنے کے نشانات اور واقعات نہیں دیکھتے رہے اس لئے اس کا نتیجہ یہ ہوا ہےکہ دین کی طرف سے ان کی یہ ِحسّیں بیکار ہو گئی ہیں۔اگر وہ اپنی آنکھوں سے کام لیتے اور حق کی باتیں سنتے اور ان کو سمجھتے تو اس عذاب میں مبتلا نہ ہوتے۔چنانچہ دوزخیوں کی نسبت آتا ہے کہ وہ عذاب میں مبتلا ہو کر کہیں گے کہ لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْۤ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ (الملک :۱ ۱) اگر ہم ان کی باتیں سنتے یا خود سمجھنے کی کوشش کرتے تو آج دوزخ والوں میں شامل نہ ہوتے۔آیت خَتَمَ اللّٰهُ الخ میں تین لطیف باتوں کی طرف اشارہ غرض اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین لطیف باتوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور توجہ دلائی ہے کہ اگر غور کرو تو عنادی کا فرو ہی ہوتے ہیں جو دل، کان اور آنکھوں سے کام لینا چھوڑ دیتے ہیں۔اور ہدایت کے یہی تین بڑے ذریعے ہیں اور ہر ایک بات پر غور انہی تین طریق سے ہو سکتا ہے۔اوّل دل ہے۔سب سے پہلا ہدایت کا ذریعہ یہی ہے۔جو شخص سوچنے کا عادی ہوتا ہے وہ بیسیوں صداقتوں کو پا لیتا ہے۔دوم کان ہیں اگر کسی میں زیادہ عقل اور سمجھ نہیں ہوتی کہ غور کر کے خود فیصلہ کر لے وہ کسی سے سن کر بات مان لیتا ہے۔تیسرے آنکھیں ہیں۔اگر کانوں سے سن کر ہدایت نہ پائے تو کم سے کم آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے کہ جو باتیں مجھ سے کہی جاتی ہیں اُن کا نتیجہ دنیا میں کیا پیدا ہو رہا ہے۔اگر نتیجہ اچھا نکل رہا ہو تو وہ معلوم کر سکتا ہے کہ گو کانوں سے سن کر وہ باتیں بھلی معلوم نہیں ہوتیں مگر مشاہدہ نے ان کی تصدیق کر دی ہے لیکن جو بدبخت ان تینوں باتوں سے عاری ہو۔وہ کبھی کوئی بات نہیں مان سکتا وہ ہمیشہ دکھ اٹھاتا ہے۔پس وہ انسان جو دنیا کی اشیاء پر غور کر کے خود صحیح نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتا وہ اگرا نبیاء کے منہ سے نکلی ہوئی باتیں سنے تو اسے ہدایت مل سکتی ہے۔اگر ان کو