تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 226

وَمَا وَلَجَ فِیْھَا مِنْ شَیْ ءٍ تَسْمَعُہٗ اور جو آواز کان میں پڑے اس پر بھی سمع کا لفظ بولتے ہیں۔اَلذِّکْرُ الْمَسْمُوْعُ سنی ہوئی بات۔لفظ سَمْعٌ واحد اور جمع دونوں طرح استعمال ہوتا ہے کیونکہ یہ دراصل مصدر ہے جو قلّت اور کثرت کا احتمال رکھتا ہے اس کی جمع اَسْمَاعٌ آتی ہے (اقرب الموارد) مفردات میں ہے اَلسَّمْعُ قُوَّۃٌ فِی الْاُذُنِ بِہٖ یُدْرَکُ الْاَصْوَاتُ یعنی سمع کان کی ایک قوت (شنوائی) کا نام ہے جس کے ذریعہ سے انسان آواز کو معلوم کرتا ہے وَفِعْلُہٗ یُقَالُ لَہُ السَّمْعُ اَیْضًا۔اور سننے کے فعل کا نام بھی سمع رکھا جاتا ہے وَیُعَبَّرُ تَارَۃً بِالسَّمْعِ عَنِ الْاُذُنِ اور کبھی لفظ سمع بول کر کان مراد ہوتا ہے وَتَارَۃً عَنْ فِعْلِہٖ کَاَسْمَاعٍ اور کبھی لفظ سمع سے اس کا فعل مراد لیا جاتا ہے۔جیسے اِنَّھُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَ کہ ان کو سننے کے فعل سے روک دیا گیا ہے وَتَارَۃً عَنِ الْفَہْمِ اور کبھی لفظ سمع سے مراد بات کا سمجھنا ہوتا ہے جیسے کہتے ہیں لَمْ تَسْمَعْ مَا قُلْتُ۔کہ جو میںنے کہا تو نے نہیں سمجھا وَتَارَۃً عَنِ الطَّاعَۃِ۔اور کبھی اس سے مراد اطاعت ہوتی ہے۔اَ لْاَ بْصَارُ۔اَ لْاَ بْصَارُ۔اَلْبَصَرُ کی جمع ہے۔اس کے معنے ہیں حَاسَّۃُ الرُّؤْیَۃِ دیکھنے کی حِسّ۔اَلْعَیْنُ آنکھ۔اَلْعِلْمُ۔علم (اقرب) غِشَاوَۃٌ۔اَلْغِشَاوَۃُ کے معنے ہیں اَلْغِطَاءُ۔پردہ (اقرب) تاج میں ہے اَلْغِشَاوَۃُ مَایُغْشٰی بِہِ الشَّیْءُ۔کہ ہر اس چیز کو جس کے ساتھ کوئی چیز ڈھانپی جائے غِشَاوَۃ کہتے ہیں۔اَلْعَذَابُ۔کُلُّ مَاشَقَّ عَلَی الْاِنْسَانِ وَمَنَعَہٗ عَنْ مُرَادِہٖ۔عذاب کے معنے ہیں ہر وہ چیز جو انسان پر شاق گزرے اور حصول مراد سے اُسے روک دے۔وَفِی الْکُلِّیَاتِ کُلُّ عَذَابٍ فِی الْقُرْآنِ فَھُوَ التَّعْذِیْبُ اِلَّا وَ لْیَشْھَدْ عَذَابَھُمَا طَائِفَۃٌ فَاِنَّ الْمُرَادَ اَلضَّرْبُ۔اور کُلِّیَات (ابی البقاء)میں لکھا ہے کہ عذاب سے مراد قرآن مجید میں عذاب دینا ہوتا ہے سوائے وَ لْیَشْھَدْ عَذَابَھُمَا کی آیت کے۔وہاں ظاہری سزا مراد ہے (اقرب) اَلْعَذَابُ ھُوَ الْاِیْجَاعُ الشَّدِیْدُ۔عذاب کے معنے ہیں سخت تکلیف دینا۔فَالتَّعْذِیْبُ فِی الْاَصْلِ ھُوَ حَمْلُ الْاِنْسَانِ اَنْ یَّعْذُبَ اَیْ یَجُوْعَ وَیَسْھَرَ۔اگر مادہ کے لحاظ سے اُسے دیکھا جائے تو اس کے معنے ہیں کہ کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر آمادہ کرنا۔کیونکہ عَذَ بَ الرَّجُلُ کے معنے ہیں۔اس نے کھانا پینا ترک کر دیا۔وَقِیْلَ اَصْلُہٗ مِنَ الْعَذْبِ۔فَـعَـذَّبْـتُـہٗ اَیْ اَ زَلْتُ عَذْ بَ حَیٰوتِہٖ۔بعض نے کہا ہے کہ عذاب عَذْ بٌ سے نکلا ہے۔جس کے معنے میٹھے پانی کے ہیں۔تَعْذِیْبٌ کے معنے اور عَذَّبَ کے معنے ہیں کہ اُسے زندگی کی حلاوت سے محروم کر دیا (مفردات) پس عَذَابٌ کے معنے ہوئے (۱) تکلیف (۲) ایسی چیز جو زندگی کی حلاوت سے محروم کر دے (۳) مقصودِ حیات سے