تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 213
خوف کرو اور نہ سابق پر غم کرو اور اس جنت کی بشارت سنو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔اسی طرح قرآن کریم میں آتا ہے۔وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ۠ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِيْنَ١ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓىِٕكَ رَفِيْقًا(النساء :۷۰) یعنی جو لوگ اللہ اوراس رسول (یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کریں گے وہ اس گروہ میں شامل ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے یعنی نبیوں‘ صدّیقوں ‘ شہداء اور صالحین کے گروہ میں اور یہ گروہ ساتھیوں کے لحاظ سے سب سے بہتر گروہ ہے پس جبکہ اس امّت سے یہ وعدہ ہے کہ وہ نبیو ںاور صدّیقوں اور شہداء والے انعام پائے گی تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اس امت میں وحی الٰہی کا دروازہ بند ہو۔اصل انعام جو نبیوں اور صدّیقوں اور شہداء کو ملتا ہے وہ تو خدا تعالیٰ کی وحی ہی ہے۔وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُوْنَمیں حضرت مسیح موعودؑ کی بعثت کی پیشگوئی اس آیت میں اس پیشگوئی کی طرف بھی اشارہ ہے جو سورۂ جمعہ میں کی گئی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَ يُزَكِّيْهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۗ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۔وَّ اٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۔(الجمعۃ:۳،۴) یعنی وہ خدا ہی ہے جس نے اُمّیوں میں انہی کی قوم کا ایک رسول بھیجا جو اُنہیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور اُنہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے گو پہلے وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے اور اسی طرح وہ ان کے سوا ایک اور قوم کو سکھائے گا جو اب تک انہیں نہیں ملے اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔جب یہ آیت نازل ہوئی تو احادیث میں آتا ہے کہ صحابہ نے پوچھا وہ کون لوگ ہیں جن کا اس آیت میں ذکر ہے جو ہم سے نہیں ملے؟ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی کے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا۔لَوْکَانَ الدِّیْنُ عِنْدَ الثُّرَیَّا لَذَھَبَ رَجُلٌ مِّنْ فَارِسَ اَوْ اَبْنَائِ فَارِسَ حَتّٰی یَتَنَاوَلَہٗ (مسند احمد بن حنبل مسند ابی ھریرة) کہ اگر ایمان ثریا پر بھی چڑھ جائے تو فارس سے ایک شخص یا فرمایا ابناء فارس میں سے ایک شخص آسمان پر جا کر دین کو واپس لے آئے گا۔اس روایت سے اور بعض اور روایات سے کہ جن میں رَجُلٌ کی جگہ رِجَالٌ کا لفظ ہے (بخاری کتاب التفسیر۔تفسیر سورۃ الجمعۃ) معلوم ہوتا ہے کہ ایک زمانہ میں ایمان دنیا سے اُٹھ جائے گا اور ایک شخص بنو فارس سے جس کے ساتھ اور بھی بعض ابناء فارس بطور مددگار ہوں گے ایمان کو واپس لائے گا اور اس کی معرفت اللہ تعالیٰ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہی کام کرنے کا موقع دے گا کہ جو صحابہؓ کے زمانہ میں آپؐ نے کیا یعنی وہ آپؐ کا بروز ہونے کی حیثیت سے خدا تعالیٰ کی وحی سے