تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 211
ویسی ہی ہے جیسے کہ مسیحی ابراہیم اور موسیٰ علیہ السلام پر ایم<mark>ان</mark> لاتے ہیں کہ وہ نبی تھے لیکن <mark>ان</mark> کی تعلیم پر تو عمل نہیں کرتے بلکہ وہ تو اُسے لعنت <mark>کہتے</mark> ہیں۔قرآنِ کریم بھی اسی اجمالی رنگ میں اُن کی بھی اور اُن کے علاوہ دوسری اقوام کے <mark>ان</mark>بیاء کی بھی تصدیق کرتا ہے مگر وہ اُن کی شریعتوں کو لعنت قرار نہیں دیتا بلکہ وہ <mark>ان</mark> سب راستبازوں کو اپنے اپنے وقت کے لئے رحمت ِالٰہی قرار دیتا ہے۔مسیحی مصنّفوں کی سمجھ میں قرآن کریم کا یہ بے نظیر نکتہ اس لئے نہیں آتا کہ وہ نبی م<mark>ان</mark> کر بھی ایک شخص کو مجرم اور گنہگار قرار دینے میں دریغ نہیں کرتے پس <mark>ان</mark> کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ قرآنِ کریم کی اس تعلیم سے کہ ہر قوم کے نبیوں اور <mark>ان</mark> کے الہام کے سچا ہونے کا اقرار کرو۔دنیا کو یا اس کے امن کو کیا فائدہ پہنچے گا؟ کیونکہ وہ تو جن کو نبی سمجھتے ہیں <mark>ان</mark> پر بھی خلاف اخلاق الزام لگ<mark>ان</mark>ے سے باز نہیں رہتے اور صرف مسیح علیہ السلام کو پاک قرار دیتے ہیں لیکن قرآن کریم کا مسلک اور ہے وہ سب نبیوں کو پاک اور راستباز قرار دیتا ہے اس لئے جب وہ ہر قوم کے نبیوں کے الہام کو اجمالی طور پر سچا م<mark>ان</mark>نے کا حکم دیتا ہے تو وہ اپنے عقیدہ کے رُو سے دنیا میں امن کے قیام کا راستہ کھول دیتا ہے کیونکہ جب ایک مسلم<mark>ان</mark> یہ تسلیم کر لے گا کہ خدا تعالیٰ نے کرشن اور رام چندر اور زردشت پر اپنا کلام نازل کیا تھا تو وہ قرآنی عقیدہ کے رُو سے اُن کی زندگیوں کو پاک سمجھے گا۔اور اُن پر لگائے گئے سب الزاموں کو خواہ م<mark>ان</mark>نے والو ںکی طرف سے ہوں خواہ مخالفوں کی طرف سے غلط اور بے بنیاد قرار دے گا اور <mark>ان</mark> کا احترام کرے گا اور اس طرح دنیا میں امن قائم ہو گا۔اس اجمالی ایم<mark>ان</mark> کا ایک اور بھی فائدہ ہے کہ اس طرح مسلم<mark>ان</mark>و ںکے دل میں خدا تعالیٰ کی حقیقی محبت قائم کی گئی ہے کیونکہ تعصّب کی وجہ سے خواہ کوئی قوم کتنا ہی یقین کرے کہ صرف ہماری ہی کتاب خدا تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے لیکن <mark>ان</mark> خشیت اللہ کے اوقات میں جو ہر <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> پر آتے ہی رہتے ہیں اس کے دل میں ضرور یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ربّ العالمین کس طرح ہو گیا جبکہ اس نے کسی ایک قوم کو اپنے الہام کے لئے چن لیا اور باقی سب اقوام کو چھوڑ دیا ہے؟ اس قرآنی عقیدہ کی بناء پر ایک مسلم<mark>ان</mark> کا عقیدہ ربوبیت عالمین کے متعلق اور بھی پختہ ہو جاتا ہے اور وہ سمجھ لیتا ہے کہ خدا تعالیٰ واقعہ میں کسی ایک قوم کا خدا نہیں بلکہ سب دنیا کا خدا ہے۔حصہ آیت وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُوْنَکی تشریح وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُوْنَ۔حلِّ لُغَات میں بتایا جا چکا ہے کہ اَ لْاٰخِرَۃُ کے معنے بعد میں آنے والی چیز کے ہوتے ہیں اسی وجہ سے بعد الموت زندگی کو حیاتِ آخرت اور قیامت کے دن کو یوم الآخرۃ <mark>کہتے</mark> ہیں اور اسی وجہ سے <mark>ان</mark>جام کو بھی آخرت <mark>کہتے</mark> ہیں کیونکہ بعد میں ظاہر ہوتا ہے۔