تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 198
نہیں۔نہ قرآن کریم اس کے خلاف ہے۔بلکہ قرآن کریم سے صاف ظاہر ہے کہ جو ان سامانوں سے فائدہ اٹھاتا ہے جو اُسے میسر ہیں خدا تعالیٰ اُسے ان دوسرے سامانوں کی طرف ہدایت کرتا ہے جو اُسے میسر نہ تھے۔اور رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی شہادت بھی اسے ثابت کرتی ہے۔چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! مجھے ایمان تو اب نصیب ہوا ہے مگر ایمان سے پہلے بھی میں بنی نوع انسان سے نیک سلوک کیا کرتا تھا کیا میرے ان اعمال کا بھی مجھے کوئی صلہ ملے گا یا مجھے اب اپنی گزری ہوئی عمر کے اعمال کی تلافی کرنی چاہیے۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اَسْلَمْتَ عَلٰی مَا اَسْلَفْتَ (مسلم کتاب الایمان باب بیان حکم عمل الکافر اذا اسلم بعدہ) یعنی تمہارے وہ عمل ضائع نہیں ہوئے بلکہ تم کو جو اسلام کی صداقت کے قبول کرنے کی توفیق ملی ہے یہ انہی اعمال کی وجہ سے ہے۔گویا دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ اعمال جو خدا تعالیٰ کا علم ہونے سے پہلے تم نے کئے گو خدا تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے نہیں کئے مگر چونکہ اس میں تمہارا قصور نہ تھا خدا تعالیٰ نے ان کو بھی قبول کر لیا اور مخلوق سے نیکی نے تم کو خدا تعالیٰ کے عرفان اور اس پر ایمان کی طرف راہنمائی کی۔لیکن اس جگہ سوال یہ نہیں کہ عدمِ علم کی صورت میں بطورِ استثناء انسان سے کیا سلوک کیا جا سکتا ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو خدا تعالیٰ کے وجود کا علم ہو جائے تو پھر وہ اس سے تعلق پیدا کرکے اپنے نفس کی اصلاح میں جلدی کرے یا وہ اس سے منہ موڑ کر مخلوق کی خدمت میں لگ جائے اور اقرار کرے کہ میں تواس ذریعہ سے خدا تعالیٰ کو پائوں گا۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی عقلمند اس امر کی تائید کرے گا۔کہ خدا تعالیٰ کا علم ہو جانے کے بعد بھی انسان کو اس سے منہ موڑ لینا چاہیے اور مخلوق کی خدمت میں لگ جانا چاہیے کہ یہی طبعی راستہ خدا تعالیٰ کو پانے کا ہے بلکہ ہر عقلمند یہ کہے گا کہ اس صورت میں خدا تعالیٰ کی طرف سے منہ موڑ لینا ہدایت پانے کا موجب نہ ہو گا بلکہ ہدایت سے دُور جانے کا موجب ہو گا۔خدا تعالیٰ کو پاکر مخلوق کی محبت کا پیدا ہونا ایک طبعی راستہ ہے خلاصہ یہ کہ مخلوق کی خدمت کر کے خدا تعالیٰ کو پانا ایک استثنائی صورت ہے۔اور عدم علم کی صورت میں ہی فائدہ پہنچا سکتی ہے لیکن خدا تعالیٰ کو پا کر مخلوق کی محبت کا پیدا ہونا ایک طبعی راستہ ہے کیونکہ جو شخص خدا تعالیٰ کو پا کر اس کی عبادت میں لگ جائے گا وہ لازماً اس کی مخلوق سے بھی محبت کرے گا۔کیونکہ خدا تعالیٰ کو پا لینے کے معنے یہ ہیں کہ اس کی صفات کا کامل علم اُسے ہو جائے اور جو شخص خدا تعالیٰ کی صفت ربوبیت ِعالمین اور صفت رحمانیت اور صفت رحیمیت اور صفت مالکیت یوم الدین کو معلوم کر لے گا وہ طبعاً اس کے بندوں سے اسی رنگ میں سلوک کرے گا جس رنگ میں کہ اس کا رب ان بندوںسے