تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 174

خلاصہ یہ کہ اسلامی نماز ان تمام طریقوں کی جامع ہے جو مختلف اقوام کے دلوں میں اس کیفیت کو پیدا کرنے کا ذریعہ بنتے چلے آئے ہیں جو عباد ت کے لئے ضروری ہے اور اس میں ہر قوم ہر فرد کی قلبی حالت کو درست کرنے اور عبادت کا سچا جذبہ پیدا کرنے کی قوت موجود ہے او رجن ظاہری ہیئتوں کا اختیا رکرنا نماز میں لازمی قرار دیا گیا ہے ان سے نماز کی عظمت میں کمی نہیں آتی بلکہ وہ ان کے ذریعہ سے مکمل ہوتی ہے اور دوسری عبادت پر اسے فضیلت حاصل ہوتی ہے۔اسلامی عبادت دوسری اقوام کی عبادتوں کے مقابل ان ظاہری افعال کے علاوہ اسلامی نماز اللہ تعالیٰ کی تسبیح تحمید اور تعظیم کے ایسے مضامین پر مشتمل ہے جو سنگدل سے سنگدل انسان کے دل کو بھی نرم کر دیتی ہے اور اس میں ایسی دعائیں رکھی گئی ہیں جو انسانی فکر کو بہت بلند کر دیتی ہیں اور اس کے مقاصد کو اونچا کر دیتی ہیں اور اس کے جذبات کو نیکی او ر تقویٰ کے لئے اُبھار دیتی ہیں اور خدا تعالیٰ کی محبت کی آگ بھڑکا دیتی ہیں اور روحانی حصہ نماز کا وہی ہیں او ران کا دوسری اقوام کی عبادات سے اگر مقابلہ کیا جائے تو دونو ںمیں وہی نسبت معلوم ہوتی ہے جیسے سورج کے مقابلہ پر مٹی کا ایک دیا۔اور یہی وجہ ہے کہ باوجود اس کے کہ اسلام نے عبادت کو تمام ظاہری دلکشیوں سے خالی رکھا ہے۔نہ اس وقت گانا ہوتا ہے نہ باجا ہوتا ہے جیسا کہ عام طور پر دوسری اقوام کی اجتماعی عبادتوں میں ہوتا ہے بلکہ فقط سنجیدگی سے اللہ کے بندے اُس کے حضور میں اپنی عقیدت کے پھول پیش کرتے ہیں اور اس کی محبت کی بھیک مانگتے ہیں اور باوجود اس کے کہ نماز ہفتہ میں ایک وقت ادا نہیں کی جاتی جیسا کہ اکثر مذاہب میں ہے بلکہ دن میں کم سے کم پانچ بار پڑھی جاتی ہے مگر پھر بھی اس بے دینی کے زمانہ میں بھی اس قدر مسلمان پانچ وقت کی نمازیں ادا کرتے ہیں کہ دوسرے تمام مذاہب کے افراد ملا کر ہفتہ میں ایک دفعہ کی عبادت بھی اس تعداد میں ادا نہیں کرتے۔یہ نماز کی روحانی کشش کا ایک بیّن ثبوت ہے اور مشاہدہ اس پر گواہ ہے۔دوسری عبادت گاہوں میں باجے بجتے ہیں، گانے گائے جاتے ہیں، آرام کے لئے کرسیاں اور صوفے مہیا کئے جاتے ہیںاور صرف ہفتہ میں ایک بار بلایا جاتا ہے لیکن لوگ ہیں کہ پھر بھی ان سے دور بھاگتے ہیں لیکن یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ کے مخاطب سخت زمین پر سجدہ کرنے کے لئے پانچ وقت مساجد میں شوق سے جمع ہوتے ہیں اور بغیر کسی ظاہری دلکشی کے اور بغیر کسی مادی آرام کے سامان کے موجود ہونے کے وہ لذت اور سرور محسوس کرتے ہیں کہ دنیا کی سب نعمتیں اس کے آگے مات ہوتی ہیں۔اس مشاہدہ کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ اسلامی عبادت صرف چند ظاہری رسوم کا مجموعہ ہے اور اس میں روحانیت کی نسبت جسمانی ہیئتوں کا زیادہ خیال رکھا گیا ہے؟ علم النفس اس