تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 12
عمرو بن العاصؓ، عبادۃ بن الصامتؓ، ابو سعید خدریؓ، عثمان بن ابی العاصؓ خوّات بن جبیر اور عبداللہ بن عمر سے یہی عقیدہ احادیث میں مذکور ہے۔(قرطبی تفسیر سورۃ فاتحۃ) ابن ما جہ میں حضرت ابو سعید خدریؓ کی روایت آتی ہے کہ لَاصَلٰو ۃَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَأْ فِیْ کُلِّ رَکْعَۃٍ بِالْـحَمْدِ لِلّٰہِ وَسُوَرۃٌ فِیْ فَرِیْضَۃٍ اَوْغَیْرِھَا یعنی جو شخص ہر رکعت میں الحمدللہ اور کوئی اور سورۃ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی اور یہ حکم فرض نماز اور غیر فرض نماز سب کے متعلق ہے۔(ابن ماجۃ کتاب الصلٰوۃ باب القرا ءَ ۃ خلف الامام) اس روایت کو محققین نے ضعیف کہا ہے مگر جبکہ صحابہ کا تعامل یہی ہے کہ اس کے مضمون کی صحت میں کلام نہیں ہو سکتا۔ابو دائود کی ایک اور روایت بھی اس کی تائید میں ہے اور وہ عبادہ بن الصامت سے مروی ہے۔نافع بن محمود بن الربیع انصاری کہتے ہیں کہ ایک جگہ حضرت عبادہ امام الصلوٰۃ تھے ایک دفعہ وہ دیر سے پہنچے اور ابو نعیم نے نماز شروع کر ا دی۔نماز شروع ہو چکی تھی کہ عبادہ بھی آ گئے۔میں بھی ان کے ساتھ تھا ہم صفوں میں کھڑے ہو گئے۔ابونعیم نے جب سورۃ فاتحہ پڑھنی شروع کی تو میں نے سنا کہ عبادہ بھی آہستہ آہستہ سورۃ فاتحہ پڑھتے رہے۔جب نماز ختم ہوئی تو میں نے ان سے پوچھا کہ جبکہ ابو نعیم بالجہر نماز پڑھا رہے تھے آپ بھی ساتھ ساتھ سورۃ فاتحہ پڑھتے جا رہے تھے یہ کیا بات ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہے کہ ہاں یہ بالکل ٹھیک ہے۔رسول کریم صلعم نے ایک دفعہ ہمیں نماز پڑھائی اور سلام پھیر کر جب بیٹھے تو پوچھا کہ جب میں بلند آواز سے نماز میں تلاوت کرتا ہوں تو کیا تم بھی منہ میں پڑھتے رہتے ہو؟ بعض نے کہا ہاں۔بعض نے کہا نہیں اس پر آپؐ نے فرمایا۔لَاتَقْرَءُوْا بِشَيْ ئٍ مِّنَ الْقُرْآنِ اِذَا جَھَرْتُ اِلَّابِاُمِّ الْقُرْآنِ (ابوداؤد کتاب الصلوٰۃ باب من ترک القِرا ءَ ۃَ فی صلوٰتہٖ) جب میں بلند آواز سے قرآن کریم نماز میں پڑھوں تو سوائے سورۃ فاتحہ کے اور کسی سورۃ کی تلاوت تم ساتھ ساتھ نہ کیاکرو۔اس بارہ میں اور بہت سی احادیث بھی ہیں۔مثلاً دار قطنی نے یزید بن شریک سے روایت کی ہے اور اس کے اسناد کو صحیح قرار دیا ہے کہ سَأَلْتُ عُمَرَ عَنِ الْقِرَائَ ۃِ خَلْفَ الْاِمَامِ فَاَمَرَ نِیْ اَنْ اَقْرَأَ، قُلْتُ وَ اِنْ کُنْتَ اَنْتَ قَالَ وَاِنْ کُنْتُ اَ نَا قُلْتُ وَاِنْ جَھَرْتَ قَالَ وَاِنْ جَھَرْتُ۔یعنی میں نے حضرت عمرؓ سے پوچھا کہ کیا میں امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھا کروں انہوں نے کہا ہاں۔میں نے پوچھا کیا جب آپ نماز پڑھا رہے ہوں تب بھی۔انہوں نے کہا ہاںخواہ میں نماز پڑھا رہا ہوں۔میں نے کہا کہ کیا جب بلند آواز سے پڑھا رہے ہوں تب بھی۔انہوں نے کہا ہاں تب بھی۔(سنن دار قطنی کتاب الصلٰوۃ باب و جوب قراء ۃ اُمّ الکتاب فی الصلوٰۃ) حضرت مسیح موعود ؑ کا فتویٰ بھی یہی ہے کہ سورۃ فاتحہ امام کے پیچھے بھی پڑھنی چاہیے خواہ وہ جہراً نماز پڑھا رہا ہو سوائے اس کے کہ مقتدی رکوع میں آ کر ملے۔اس صورت میں وہ تکبیر