تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 167
رکعتیں پڑھی جاتی ہیں ظہر کی نماز سے پہلے چار رکعتیں ہیں اور بعد میں بھی چار رکعتیں ہیں۔چار کی جگہ دو دو بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔عصر کے ساتھ کوئی ایسی سنتیں نہیں ہیں۔مغرب کے بعد دو رکعتیں پڑھی جاتی ہیں اور عشاء کے بعد بھی دو یا چار رکعتیں پڑھی جاتی ہیں۔(ترمذی ابواب الصلٰوۃ باب ماجاء فی من صلی فی یوم و لیلۃ ثنتی عشرۃ رکعۃ من السنۃ مالہ من الفضل۔وباب ماجاء فی الرکعتین بعد الظہر) اور انہی کے بعد مذکورہ بالا و تر پڑھے جاتے ہیں۔نمازِ تہجد ان سنتوں کے علاوہ ایک نماز تہجد کہلاتی ہے نصف شب کے بعد کسی وقت پَوپھٹنے سے پہلے یہ نماز پڑھی جاسکتی ہے مگر جیسا کہ تہجد کے معنوں سے ظاہر ہے یہ نماز سو کر اُٹھنے کے بعد پڑھی جانی چاہیے گو کسی وقت سونے کا وقت نہ ملے اور نصف شب گزر جائے تو یوں بھی پڑھ سکتا ہے مگر قرآن کریم نے جو اس کا نام رکھا ہے اس سے بھی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق ِ عمل سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ عشاء کے بعد آدمی سو جائے اور سونے سے اُٹھ کر یہ نماز ادا کرے اس نماز کا روحانی ترقیات سے بہت گہرا تعلق ہے اور قرآن کریم میں اس کی خاص تعریف آئی ہے (دیکھو سورۂ مزمل آیت ۱ تا ۶) ان کے علاوہ بعض اور سنتیں بھی ہیں جو مؤکّد تو نہیں یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی خاص تاکید تو نہیں فرمائی مگر آپ جب موقع ملتا انہیں ادا کرتے تھے ان میں سے ایک اشراق کی نماز ہے یعنی جب سورج نیزہ دو نیزے اوپر آ جائے اسی طرح اور بعض نوافل ہیں لیکن حکم یہ ہے کہ جب سورج نکل رہا ہو یا ڈوب رہا ہو یا نصف النہار کا وقت ہو تو نماز ناجائز ہے اور جب دھوپ زَرد ہو جائے تب بھی ناپسندیدہ ہے۔نمازوں کو جمع کر کے پڑھنا نمازوں کو ان کے مقررہ وقت پر پڑھنے کا حکم ہے لیکن اگر کسی مجبوری کی وجہ سے مثلاً بارش ہو اور بار بار مسلمانوں کا جمع ہونا مشکل ہو یا کوئی ایسا اجتماعی کام ہو جسے درمیان میں نہ چھوڑا جا سکتا ہو یا سفر ہو تو جائز ہے کہ ظہر اور عصر کی نمازوں کو ملا کر پڑھ لیا جائے اس صورت میں بعض کے نزدیک درمیانی سنتیں معاف ہوتی ہیں اور بعض کے نزدیک پہلی اور پچھلی سنتیں بھی معاف ہوتی ہیں اور میرے نزدیک یہی آخری بات درست ہے۔مغرب اور عشاء کو ملا کر پڑھنا بھی انہی حالات میں اور اسی طرح جائز ہے جس طرح کہ ظہر اور عصر کا۔مگر صبح ظہر یا عصر مغرب یا عشاء صبح کا ملا کر پڑھنا جائز نہیں سوائے اس کے کہ کوئی ایسے شدید کام میں ہو کہ اس کا ترک جان کے لئے پُرخطر ہو جیسے جہاد میں کہ اگر لڑائی سے ہٹ کر نماز پڑھے تو دشمن قتل کر دے گا یا مثلاً نہر یا دریا کا بند ٹوٹ جائے اور اس کے بند کرنے میں لوگ مشغول ہوں یا آگ لگ جائے اور اس کے بجھانے میں لوگ مشغول ہوں تو ایسے مواقع پر ان نمازوں کو بھی جمع کیا جا سکتا ہے جن کو امن کی حالت میں جمع نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ آفات ملک اور قوم اور شہر کی تباہی کا موجب ہوتی ہیں۔اس صورت میں بھی ان نمازوں کو جو عام طور پر جمع نہیں ہو سکتیں جمع