تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 11
ان کے <mark>اس</mark> خیال کا ذکر احادیث سے ثابت ہے چنانچہ ابوبکر الانباری نے عَنِ الْاَعْمَشِ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ ایک حدیث نقل کی ہے کہ عبداللہ بن مسعودؓ سے پوچھا گیا کہ آپ نے اپنے نسخہ ٔ قرآن میں <mark>سورۃ</mark> فاتحہ کیوں نہیں لکھی تو <mark>اس</mark> کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ لَوْکَتَـبْتُہَا لَکَتَبْـتُہَا مَعَ کُلِّ سُورَۃٍ۔یعنی اگر میں <mark>سورۃ</mark> بقرہ سے پہلے <mark>اس</mark>ے لکھتا تو سب سورتوں کے ساتھ لکھتا یعنی یہ <mark>سورۃ</mark> ہر <mark>سورۃ</mark> سے متعلق ہے <mark>اس</mark> لئے میں نے <mark>اس</mark>ے حذف کر دیا ہے تایہ غلط فہمی نہ ہو کہ صرف <mark>سورۃ</mark> بقرہ کے ساتھ <mark>اس</mark> کا تعلق ہے (قرطبی) معلوم ہوتا ہے یہی <mark>اس</mark>تدلال مُعَوَّذَ تَیْن کے بارہ میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے کیا ہے ورنہ وہ <mark>سورۃ</mark>جسے رسول کریم صلعم نے صاف طورپر قرآن کریم کی سورتوں میں سے سب سے بڑی قرار دیا ہے (بخاری کتاب فضائل القرآن باب فضل فاتحۃ الکتاب عن سعید بن المعلّی ) <mark>اس</mark>ے کس طرح قرآن کریم سے خارج قرار دے سکتے تھے۔<mark>سورۃ</mark> فاتحہ ہر نماز میں اور ہر رکعت میں پڑھنی ضروری ہے سوائے <mark>اس</mark> کے کہ مقتدی کے نماز میں شامل ہونے سے پہلے امام رکوع میں جا چکا ہو <mark>اس</mark> صورت میں <mark>اس</mark>ے تکبیر کہہ کر ب<mark>غیر</mark> کچھ پڑھے رکوع میں چلے جانا چاہیے۔امام کی قراء ت ہی <mark>اس</mark> کی قراء ت سمجھ لی جائے گی۔<mark>سورۃ</mark> فاتحہ کے نماز میں پڑھنے کی تاکید مختلف احادیث میں <mark>سورۃ</mark> فاتحہ کے نماز میں پڑھنے کی تاکید مختلف احادیث میں آئی ہے۔مسلم میں آتا ہے حضرت ابوہریرہؓ نے روایت کی ہے کہ قَالَ (رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) مَنْ صَلّٰی صَلٰوۃً لَمْ یَـقْرَأْ فِیْہَا بِاُمِّ الْقُرْآنِ فَھِیَ خِدَاجٌ (مسلم کتاب الصلوٰۃ باب وجوب قراء ۃ الفاتحۃ فی کل رکعۃٍ) یعنی جس نے نماز ادا کی مگر <mark>اس</mark> میں <mark>سورۃ</mark> فاتحہ نہ پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے اور بخاری ،مسلم میں عبادۃ بن الصامت کی روایت ہے کہ رسول کریم صلعم نے فرمایا کہ لَاصَلٰوۃَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَأْ بِفَاتِـحَۃِ الکِتَابِ (بخاری کتاب الصلوٰۃ باب وجوب قراء ۃ الامام و المأْموم فی الصلٰوۃ کلہا نیز مُسلم باب وجوب قراءۃ الفا تحۃ فی کل رکعۃٍ) یعنی جس نے فاتحۃ الکتاب نہ پڑھی <mark>اس</mark> کی نماز ہی نہیں ہوئی اور صحیح بن خزیمہ اور ابن حبان میں ابوہریرۃؓ سے بھی ایسی ہی روایت آتی ہے (قرطبی) نیز ابو دائود میں حضرت ابوہریرۃ ؓسے روایت ہے کہ اَمَرَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ اُنَادِیْ اَنَّہٗ لَاصَلٰوۃَ اِلَّا بِقِرَائَ ۃِ فَاتِـحَۃِ الْکِتَابِ فَـمَازَادَ (ابوداؤدکتاب الصلٰوۃ باب من ترک القراء ۃ فی صلوٰتہٖ) یعنی رسول کریم صلعم نے مجھے حکم دیا کہ میں لوگوں میں اعلان کر دوں کہ کوئی نماز ب<mark>غیر</mark> <mark>اس</mark> کے نہیں ہوسکتی کہ <mark>سورۃ</mark> فاتحہ او ر<mark>اس</mark> کے ساتھ کچھ اور حصہ قرآن کریم کا پڑھا جائے۔صحابہ میں سے حضرت عمرؓ، عبداللہ بن عب<mark>اس</mark>ؓ، ابوہریرہ ؓ، ابی بن کعبؓ، ابو ایوب انصاریؓ، عبداللہ بن