تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 10

سورۃ فاتحہ کا نزول سورۃ فاتحہ کا نزول اس سورۃ کے نزول کے بارہ میںابن عباسؓ قتادہ اور ابو العالیہ کا بیان ہے کہ یہ ّمکی سورۃ ہے اور ابوہریرۃ ؓ اور مجاہد اور عطاء اور زُہری کا قول ہے کہ یہ مدنی ہے لیکن قرآن کریم سے ظاہر ہے کہ یہ سورۃ مکہ میں نازل ہو چکی تھی کیونکہ اس کا ذکر سورۃ الحجر میں جو بالا جماع مکیّ سورۃ ہے ان الفاظ میں آ چکا ہے۔وَ لَقَدْ اٰتَيْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِيْمَ (الحجر:۸۸) (قرطبی تفسیر سورۃ فاتحۃ) بعض ائمہ کا خیال ہے کہ دو دفعہ یہ سورۃ نازل ہوئی ہے ایک دفعہ مکہ میں اور دوسری دفعہ مدینہ میں۔پس یہ مکی بھی ہے او رمدنی بھی۔(قرطبی میں بحوالہ ثَعلبی یہ روایت لکھی ہے مگر ثعلبی کی تفسیر میں جو مطبوعہ الجزائر ہے یہ رائے درج نہیں۔شاید ثَعلبی کی کسی اور کتاب سے یہ رائے قرطبی نے درج کی ہو) میرے نزدیک یہی خیال درست ہے۔اس کا مکی ہونا یقینی ہے اور اس کا مدنی ہونا بھی معتبر رواۃ سے ثابت ہے۔سورۃ فاتحہ مکہ اور مدینہ میں دو دفعہ نازل ہوئی پس حقیقت یہی معلوم ہوتی ہے کہ یہ دو دفعہ نازل ہوئی ہے اور جب دوسرے نزول کا رسول کریم صلعم نے کسی مجلس میں ذکر کیا تو بعض لوگوں نے سمجھا کہ یہ سورۃ نازل ہی مدینہ میں ہوئی تھی حالانکہ آپؐ کا مقصد اس سے لوگوں کو یہ بتانا تھا کہ یہ سورۃ مدینہ میں بھی نازل ہوئی ہے۔اس کے مکی ہونے کا یہ ثبوت بھی ہے کہ تمام روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سورۃ فاتحہ ہمیشہ سے نماز میں پڑھی جاتی رہی ہے اور نماز باجماعت مکہ میں ہی پڑھی جانی شروع ہو گئی تھی بلکہ شروع زمانہ سے ہی شروع ہو گئی تھی۔سورۃ فاتحہ قرآن کا حصّہ ہے سورۃ فاتحہ کو قرآن کا حصہ نہ سمجھنے کے دلائل کا جواب بعض لوگوں نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ سورۃ فاتحہ قرآن کریم کا حصّہ نہیں ہے اور اس خیال کی دلیل یہ بتاتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ نے اپنے نسخہ میں سورۃ فاتحہ کو نہیں لکھا تھا مگر یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ نے سورۃ فاتحہ اور مُعَوَّذَ تَیْنِ یعنی سورۃ الفلق اور سورۃ الناس تینوں سورتیں قرآن کریم میں نہیں لکھی تھیں او ران کا یہ خیال تھا کہ سورۃ فاتحہ ہر سورۃ کے ساتھ چونکہ نماز میں پڑھی جاتی ہے اس لئے یہ ہر سورۃ کی تمہید ہے اور غالباً مُعَوَّذَ تَیْن کے بارہ میں بھی ان کا یہ خیال تھا کہ بوجہ اس کے کہ ان کا مضمون مختلف نقصانات اور شرور سے بچنے کی دُعا پر مشتمل ہے اس لئے وہ گویا باوجود قرآن عظیم کا حصّہ ہونے کے متنِ قرآن سے باہر ہیں اور وہ غالباً انہیں بھی ہر سورۃ سے متعلق سمجھتے تھے۔سورۃ فاتحہ کے بارہ میں تو