تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 151

ہے تو اس کے یہ معنے ہیں کہ <mark>ان</mark>ہوں نے اپنے مذہب کو سمجھ کر نہیں م<mark>ان</mark>ا تھا اور اُن کا ایم<mark>ان</mark> ذاتی نہ تھا بلکہ صرف اپنے ماحول کی ایک صدائے باز گشت تھا۔خلاصہ یہ کہ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِکہہ کر قرآن کریم نے بتایا ہے کہ قرآن کریم <mark>ان</mark> متقیوں کو جو مندرجہ ذیل صفات اپنے <mark>ان</mark>در رکھتے ہیں اعلیٰ روح<mark>ان</mark>ی مقامات تک پہنچاتا ہے (۱) <mark>ان</mark> متقیوں کو بھی جو دلائل اور براہین سے روح<mark>ان</mark>ی دنیا سے تعلق رکھنے والے عقائد پر <mark>ان</mark> کی صداقت واضح ہو ج<mark>ان</mark>ے کے بعد پورا ایم<mark>ان</mark> لے آتے ہیں خواہ ابھی اس مقام پر نہ پہنچے ہوں کہ دلیل سے بڑھ کر ذاتی تجربہ نے بھی <mark>ان</mark> کے ایم<mark>ان</mark> کو مضبوط کر دیا ہو (۲) وہ <mark>ان</mark> متقیوں کو بھی ہدایت کی اعلیٰ راہوں پر چلاتا ہے جن کا ایم<mark>ان</mark> منافقت سے پاک ہو اور <mark>ان</mark> کا دل اور زب<mark>ان</mark> اور عمل ایک ہو (۳) وہ <mark>ان</mark> متقیوں کو بھی ہدایت کی اعلیٰ راہو ںپر چلاتا ہے جن کا ایم<mark>ان</mark> قومی نہ ہو بلکہ ذاتی ہو یہ نہ ہو کہ مومنوں کی مجلس میں مومن او رکافروں کی مجلس میں کافر بلکہ خواہ اُنہیں کیسی ہی مخالف سوسائٹی یا قوم میں رہنا پڑے اُن کا ایم<mark>ان</mark> ڈ<mark>ان</mark>وا ڈول نہ ہو اور اُن کے مومن<mark>ان</mark>ہ عمل میں فرق نہ آئے (۴) وہ <mark>ان</mark> متقیوں کو بھی ہدایت دیتا ہے جو اِن ظاہری حواس سے محسوس نہ ہونے والی صداقتوں پر کامل یقین اور اعتقاد رکھتے ہیں جن کا وجود <mark>دوسرے</mark> دلائل اور براہین سے ثابت ہے اور ایسے ایم<mark>ان</mark> کو اپنے تجارب کی بناء پر کمال تک پہنچاتے ہیں (۵) ایسے متقیوںکو بھی ہدایت کے اعلیٰ مقام تک پہنچاتا ہے جو تاجر<mark>ان</mark>ہ ذہنیت کو چھوڑ کر اخلاقی اور دینی نتائج پر یقین رکھتے ہیں اور <mark>ان</mark> قرب<mark>ان</mark>یوں کے نیک نتائج پر یقین رکھتے ہیں جو بظاہر حالات مقبول ہوتی نظر نہیں آتیں لیکن قومی ترقی اور ملی کامیابی کے لئے اُن کا وجود ضروری سمجھا جاتا ہے اور اپنے ذاتی فوائد کو قومی فوائد پر قرب<mark>ان</mark> کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔جن متقیوں میں <mark>ان</mark> سے ایک یا زیادہ باتیں پائی جائیں وہ قرآن کریم کی اتباع میں حاصل ہونے والی اعلیٰ ہدایتوں کے مستحق سمجھے جاتے ہیں اور وہ ہدایت <mark>ان</mark>ہیں دی جاتی ہے۔اِقَامَۃُ الصَّلٰوۃ کے چھ معنے یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ۔جیسا کہ حَلِّ لُغَات میں بتایا جاچکا ہے اِقَامَۃُ الصَّلٰوۃ کے معنے (۱) باقاعدگی سے نماز ادا کرنے کے ہیں کیونکہ قَامَ عَلَی الْاَمْرِ کے معنے کسی چیز پر ہمیشہ قائم رہنے کے ہیں پس یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ کے یہ معنے ہوئے کہ نماز میں ناغہ نہیں کرتے۔ایسی نماز جس میں ناغہ کیا جائے اسلام کے نزدیک نماز ہی نہیں کیونکہ نماز وقتی اعمال سے نہیں بلکہ اُسی وقت مکمل عمل سمجھا جاتا ہے جبکہ تو بہ یا بلوغت کے بعد کی پہلی نماز سے لے کر وفات سے پہلے کی آخری نماز تک اس فرض میں ناغہ نہ کیا جائے جو لوگ درمی<mark>ان</mark> میں نمازیں چھوڑتے رہتے ہیں اُن کی سب نمازیں ہی ردّ ہو جاتی ہیں۔پس ہر مسلم<mark>ان</mark> کا فرض ہے کہ جب وہ بالغ ہو یا جب اُسے اللہ تعالیٰ