تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 147

ہے سب دنیا کی تسلیم کردہ ہے مگر اس کو حواسِ خمسہ سے تو معلوم نہیں کیا جا سکتا۔ایک ماں اپنے بچہ سے حسنِ سلوک کرتی ہے لیکن وہ نہیں جانتی کہ اس حسن سلوک کے نتیجہ میں جو محبت پیدا ہو گی وہ اس کا کوئی مزہ بھی چکھ سکے گی یا نہیں؟ لیکن باوجود اس کے وہ محبت کرتی جاتی ہے۔ایک استاد شاگردوں کو پڑھاتا ہے وہ نہیں جانتا کہ اس کی تعلیم کے نتیجہ میں اس کے طلباء کسی اعلیٰ درجہ کو پہنچیں گے یا نہیں ؟مگر وہ پڑھانے سے باز نہیں رہتا۔حکومتیں ملک کی حالت ُسدھارنے کے لئے ہزاروں جتن کرتی ہیں اور نہیں جانتیں کہ ان کے خوشگوار نتائج کب اور کس شکل میں پیدا ہوں گے؟ مگر وہ آئندہ کی امید پر اور سابقہ تجربہ کی بناء پر اپنی کوششوں میں لگی رہتی ہیں۔سپاہی نہیں جانتے کہ جنگ کا کیا نتیجہ نکلے گا ؟لیکن اپنے ملک کی حفاظت میں جانیں دیتے چلے جاتے ہیں۔یہ سب ایمان بالغیب ہی ہوتا ہے یا کچھ اور؟ خلاصہ یہ کہ ایمان بالغیب سے مراد (۱) ان سب صداقتوں پر ایمان لانا ہے جو حواسِ خمسہ سے معلوم نہیں کی جا سکتیں بلکہ ان کا ثبوت اور ذرائع سے معلوم ہوتا ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات ہے کہ اسے حواسِ خمسہ سے معلوم نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے جاننے کے اور دلائل ہیں اور وہ دلائل ایسے یقینی اور قطعی ہیں کہ ظاہری حواس سے معلوم کی ہوئی باتوں سے کم نہیں بلکہ زیادہ یقین کے مقام پر انسان کو کھڑا کر دیتے ہیں۔مثلاً خدا تعالیٰ کا کلام ہے جسے مومن سنتے ہیں اور اس کے بتائے ہوئے علومِ غیبیہ ہیں جنہیں مومن پورا ہوتے دیکھتے ہیں اور اس کی زبردست قدرتیں ہیں جن کا ظہور مومن اپنے نفوس اور باقی دنیا میں دیکھتے ہیں مگر باوجود ان باتوں کے خدا تعالیٰ کی ہستی وَرَاء ُالوَرَاء ہے وہ حواسِ خمسہ سے محسوس نہیں کی جا سکتی۔اسی طرح ملائکہ کا وجود ہے۔ملائکہ ظاہری آنکھوں سے نظر نہیں آتے نہ دوسرے حواس ظاہری سے معلوم کئے جا سکتے ہیں لیکن باوجود اس کے اُن کا وجود وہمی نہیں ہے بلکہ ان کے وجود پر قطعی دلائل ہیں جو قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر بیان کئے گئے ہیں۔یا مثلاً ایک غیب موت کے بعد کی زندگی ہے قرآن کریم اس پر بے دلیل ایمان لانے کا حکم نہیں دیتا بلکہ اس کے سچے ہونے پر زبردست دلائل دیتا ہے جو آئندہ مختلف مواقع پر بیان کئے جا ئیں گے۔(۲) یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ کے یہ معنے بھی ہیں کہ متقی صرف ایسے کام نہیں کرتے کہ جن کے نتائج نقد بہ نقد مل جاتے ہیں۔جیسے کہ تاجر سودا فروخت کرتا ہے اور اس کی قیمت وصول کر لیتا ہے۔بلکہ ان کی زندگی اخلاقی زندگی ہوتی ہے اور وہ اخلاق کی قوت اور ان کے نیک نتائج پر ایمان رکھتے ہیں اور تاجرانہ ذہنیت کو ترک کر کے ایسی قربانیاں کرتے ہیں کہ جو آخر میں اُن کی قوم کو اور باقی دنیا کو اُبھار دیتی ہیں۔مثلاً دنیا میں امن کے قیام کے لئے جہاد کا کرنا ایمان بالغیب کا ہی نتیجہ ہے۔ورنہ کون جانتا ہے کہ وہ زندہ رہے گا اور لڑائی کے اچھے نتیجہ کو دیکھے گا۔سپاہی جب کسی