تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 141
خَضَعَ وَ انْقَادَ یعنی فرمانبرداری اختیار کی۔مطیع ہو گیا اور کہنا مان لیا (اقرب) اَلْاِیْمَانْ۔اَلتَّصْدِیْقُ۔ایمان جو اٰمَنَ کا مصدر ہے اس کے معنے تصدیق کرنے کے ہیں۔(اقرب) تاج العروس میں ہے۔اَ لْاِیْمَانُ یَتَعَدَّی بِنَفْسِہٖ کَصَدَّقَ وَبِاللَّامِ بِـاِعْتبَارِ مَعْنَی الْاِذْعَانِ وَبِـالْبَائِ بِـاِعْتبَارِ مَعْنَی الْاِعْتِرَافِ اِشَارَۃٌ اِلٰی اَنَّ التَّصْدِیْقَ لَایُعْتَبرُ بِدُوْنِ اِعْتِرَافٍ۔کہ لفظ ایمان کبھی بغیر صلہ کے استعمال ہوتا ہے اور کبھی اس کا صلہ لام آتا ہے اور اس میں اذعان یعنی فرمانبرداری کے معنے ملحوظ ہوتے ہیں۔اور جب باء کے صلہ کے ساتھ استعمال ہو تو اس وقت اس طرف اشارہ ہوتا ہے کہ ایمان کے معنے تصدیق کے ہیں اور تصدیق کے ساتھ اعتراف بھی ہوتا ہے اس لئے اس کو اعتراف کے معنے میں استعمال کر لیتے ہیں۔پس یُؤْمِنُوْنَ کے تین معنے ہوں گے۔(۱) تصدیق کرتے ہیں (۲) اعتراف کرتے ہیں (۳) پختہ یقین اور اعتماد رکھتے ہیں۔اَلْغَیْبُ۔اَلْغَیْبُ۔غَابَ (یَغِیْبُ) کا مصدر ہے۔کہتے ہیں غَا بَتِ الشَّمْسُ وَغَیْرُھَا: اِذَا اسْتَتَرَتْ مِنَ الْعَیْنِ یعنی غَابَ کا لفظ سورج اور دیگر اشیاء کے لئے اس وقت بولتے ہیں جبکہ سورج اور دوسری چیزیں آنکھوں سے اوجھل ہو جائیں وَاسْتُعْمِلَ فِیْ کُلِّ غَائِبٍ عَنِ الْحَاسَّۃِ وَعَمَّا یَغِیْبُ عَنْ عِلْمِ الْاِنْسَانِ بِمَعْنَی الْغَائِبِ۔جس کا علم حو اسِ ظاہری سے حاصل نہ ہو سکے یا جس کا علم انسان کو نہ ہو اُسے غائب کہتے ہیں۔وَالْغَیْبُ فِیْ قَوْلِہٖ: ’’ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ‘‘۔مَالَایَقَعُ تَحْتَ الْحَوَاسِّ وَلَا تَقْتَضِیْہِ بَدَایَۃُ الْعُقُوْلِ۔اور آیت یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ میں غیب سے مراد ہر وہ چیز ہے جو حواس ظاہری سے معلوم نہ کی جاسکے اور سرسری نظر میں انسانی عقلیں اس تک نہ پہنچ سکیں (مفردات) لسان میں ہے وَقَوْلُہٗ تَعَالٰی یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ اَیْ یُؤْمِنُوْنَ بِمَا غَابَ عَنْھُمْکہ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ میں غیب کے یہ معنے ہیں کہ جو باتیںاُن کی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں اُن پر ایمان لاتے ہیں۔وَالْغَیْبُ مَاغَابَ عَنِ الْعُیُوْنِ وَ اِنْ کَانَ مُحَصَّلًا فِی الْقُلُوْبِ اَوْغَیْرَ مُحَصَّلٍ اور غیب کا لفظ ہر اُس امر پر بولا جاتا ہے جو آنکھوں سے پوشیدہ ہو خواہ وہ ایسا امر ہو کہ دماغی طو رپر اس کا علم حاصل ہو یا ایسا ہو کہ عقلاً بھی اس کا علم حاصل ہو کُلُّ مَکَانٍ لَایُدْرٰی مَافِیْہِ فَھُوَ غَیْبٌ۔ہر وہ جگہ جس کے متعلق معلوم نہ ہو کہ اس کے اند رکیا ہے؟ اس کو غیب کہتے ہیں۔وَکَذَالِکَ الْمَوْضِعُ الَّذِیْ لَا یُدْرٰی مَا وَرَائَ ہٗ۔اور اسی طرح اس جگہ پر بھی غیب کا لفظ بولتے ہیں جس کے پیچھے کی اشیاء کا علم نہ ہو۔نیز کہتے ہیں۔غَابَ الرَّجُلُ غَیْبًا اَیْ سَافَرَ اَوْ بَانَ۔کہ فلاں شخص نے سفر کیا یا کسی سے جدا ہو گیا۔پس غیب ہر وہ امر ہے جو آنکھوں سے پوشیدہ ہو نہ یہ کہ وہ موہوم اور بے ثبوت ہو۔پس یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ کے معنے ہوں گے (۱)ہر وہ چیز (امر) جو ظاہری آنکھوں سے نظر نہیں آتی اور ظاہری حواس