تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 130
اختلاف پایا جاتا ہے۔یوحنا باب ۲۰ آیت ۱ میں لکھا ہے کہ ہفتہ کے پہلے دن (یعنی اتوار کو) مریم میگدلینی قبر پر آئی لیکن متی باب۲۸آیت ۱ میں لکھا ہے کہ سبت کے بعد (یعنی اتوار کے دن) پوپھٹنے کے بعد مریم میگدلینی اور دوسری مریم اس کی قبر کو دیکھنے آئیں۔یعنی قبر پر آنیوالی دو عورتیں تھیں۔مرقس باب ۱۶ آیت ۱ میں اس سے بھی اختلاف کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اتوار کے دن مریم میگدلینی یعقوب کی ماں مریم اور سلومی یعنی تین عورتیں قبر پر آئیں۔لیکن لوقا باب ۲۴آیت ۱۰ میں کہا گیا ہے کہ مریم میگدلینی اور یوحنا اور مریم یعقوب کی ماں اور اَور عورتیں ساتھ تھیں۔اور یہ سب مل کر قبر پر گئیں۔گویا ہر ایک <mark>ان</mark>جیل دوسری <mark>ان</mark>جیل کے مخالف بی<mark>ان</mark> دے رہی ہے۔یوحنا ایک عورت کا ج<mark>ان</mark>ا بی<mark>ان</mark> کرتا ہے۔متی دو عورتوں کا ج<mark>ان</mark>ا بی<mark>ان</mark> کرتا ہے۔مرقس تین عورتوں کا ج<mark>ان</mark>ا بی<mark>ان</mark> کرتا ہے۔اب یہ کیونکر تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ یہ سب کلام خدا تعالیٰ کا ہے۔یہ اور اسی قسم کے بہت سے اختلافات <mark>ان</mark>اجیل میں پائے جاتے ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ موجودہ <mark>ان</mark>اجیل شک و شبہ سے خالی نہیں۔<mark>ان</mark>جیل میں تحریف کے چند نمونے <mark>دوسرے</mark> دعویٰ کی تائید میں مندرجہ ذیل مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔متی باب ۱۷ میں ایک آیت نمبر ۲۱ یوں ہوا کرتی تھی۔’’مگر اس طرح کے دیو بغیر دعا و روزہ کے نہیں نکالے جاتے۔‘‘ ۱۹۳۰ء کے پہلے کی تمام <mark>ان</mark>اجیل میں یہ آیت پائی جاتی تھی مگر ۱۹۳۰ء اور اس کے بعد کی <mark>ان</mark>اجیل میں سے یہ آیت کی آیت ہی نکال دی گئی۔متی باب۱۹ آیت ۱۷ کے الفاظ پہلے <mark>ان</mark>ا جیل میں یوں ہوا کرتے تھے ’’تو کیوں مجھے نیک کہتا ہے‘‘ لیکن ۱۹۳۰ء کی <mark>ان</mark>اجیل میں اس فقرہ کو بدل کر یوں کر دیا گیا ہے ’’تو مجھ سے نیکی کی بابت کیوں پوچھتا ہے۔‘‘ متی باب۲۳میں ایک آیت ۱۴ ہوا کرتی تھی جس کے الفاظ یوں تھے ’’اے ریا کار فقیہو اور فریسیو تم پر افسوس کہ بیوائوں کے گھر نگل جاتے اور مکر سے لمبی نمازیں پڑھتے ہو اس سبب سے تم زیادہ تر سزا پائو گے۔‘‘ ۱۹۳۰ء کے نسخوں میں سے یہ آیت بالکل نکال دی گئی ہے۔متی باب۷۲ میں ایک آیت ۵۳ ہوتی تھی جس کے الفاظ یہ تھے ’’تاکہ جو نبی نے کہا تھا پورا ہو۔کہ <mark>ان</mark>ہوں نے میرے لباس آپس میں ب<mark>ان</mark>ٹ لئے اور میرے لباس پر چٹھی ڈالی۔‘‘ مگر یہ آیت ۱۹۳۰ء کے نسخوں میں موجود نہیں۔یوحنا باب ۵ میں ایک آیت ۴ ہوتی تھی جس کے الفاظ یہ تھے ’’کیونکہ ایک فرشتہ <mark>بعض</mark>ے وقت اس حوض میں اُتر کے اس پ<mark>ان</mark>ی کو ہلاتا تھا۔اورپ<mark>ان</mark>ی کے ہلنے کے بعد جو کوئی کہ پہلے اس میں اُترتا کسی بیماری میں گرفتار ہو اس سے چنگا ہو جاتا تھا۔‘‘ یہ آیت ۱۹۳۰ء اور بعد کی <mark>ان</mark>اجیل میں سے بالکل نکال دی گئی ہے۔یوحنا باب۷ آیت ۵۳سے باب ۸ آیت ۱۱ تک نسخہ مطبوعہ مرزا پور میں موجود ہیں مگر نسخہ بحروف رومن اردو کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ ساتویں باب کی ۵۳ آیت سے لیکر آٹھویں باب کی گیارہویں آیت تک کی عبارت اکثرقلمی